سوره فصلت/ آیه 49- 52
لَا يَسْأَمُ الْإِنْسَانُ مِنْ دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِنْ مَسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوسٌ قَنُوطٌ ۴۹وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ رَحْمَةً مِنَّا مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَٰذَا لِي وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُجِعْتُ إِلَىٰ رَبِّي إِنَّ لِي عِنْدَهُ لَلْحُسْنَىٰ ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِمَا عَمِلُوا وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ ۵۰وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍ عَرِيضٍ ۵۱قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهِ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ۵۲
انسان بھلائی کی رَعا کرتے ہوئے کبھی نہیں تھکتا ہے اور جب کوئی تکلیف اسے چھو بھی لیتی ہے تو بالکل مایوس اور بے آس ہوجاتا ہے. اور اگر ہم اس تکلیف کے بعد پھر اسے رحمت کا مزہ چکھادیں تو فورا یہ کہہ دے گا کہ یہ تو میرا حق ہے اور مجھے تو خیال بھی نہیں ہے کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر میں پروردگار کی طرف پلٹایا بھی گیا تو میرے لئے وہاں بھی نیکیاں ہی ہیں تو پھر ہم بھی کفار کو ضرور بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کیا, کیا ہے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے. اور ہم جب انسان کو نعمت دیتے ہیں تو ہم سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور پہلو بدل کر الگ ہوجاتا ہے اور جب برائی پہنچ جاتی ہے تو خوب لمبی چوڑی رَعائیں کرنے لگتا ہے. آپ کہہ دیجئے کہ کیا تمہیں یہ خیال ہے اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے اور تم نے اس کا انکار کردیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اس سے اتنا سخت اختلاف کرنے والا ہو.
۴۸۔لا یَسْاٴَمُ الْإِنْسانُ مِنْ دُعاء ِ الْخَیْرِ وَ إِنْ مَسَّہُ الشَّرُّ فَیَؤُسٌ قَنُوطٌ ۔
۵۰۔وَ لَئِنْ اٴَذَقْناہُ رَحْمَةً مِنَّا مِنْ بَعْدِ ضَرَّاء َ مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ہذا لی وَ ما اٴَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً وَ لَئِنْ رُجِعْتُ إِلی رَبِّی إِنَّ لی عِنْدَہُ لَلْحُسْنی فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذینَ کَفَرُوا بِما عَمِلُوا وَ لَنُذیقَنَّہُمْ مِنْ عَذابٍ غَلیظٍ ۔
۵۱۔ وَ إِذا اٴَنْعَمْنا عَلَی الْإِنْسانِ اٴَعْرَضَ وَ نَاٴی بِجانِبِہِ وَ إِذا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُو دُعاء ٍ عَریضٍ ۔
۵۲۔ قُلْ اٴَ رَاٴَیْتُمْ إِنْ کانَ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِہِ مَنْ اٴَضَلُّ مِمَّنْ ہُوَ فی شِقاقٍ بَعیدٍ ۔
ترجمہ
۴۹۔ انسان کبھی بھی نیکی ( اور نعمت ) کی دعا سے نہیں تھکتا ، اور جب کسی برائی سے دوچار ہوتا ہے تو مایوس اور نااُمید ہوجاتاہے۔
۵۰۔ اور جب ہم اسے کسی مصیبت کے بعد اپنی رحمت ( کالطف ) چکھاتے ہیں تو کہتاہے کہ یہ تومیری لیاقت اوراستحقاق کی بناپر تھا اور میراگمان نہیں ہے کہ قیامت برپا ہوگی ( اور بالفرض قیامت ہوبھی تو) جس دن میں اپنے پر وردگار کی طرف لوٹ کرجاؤ ں گا تو اس کے نزدیک میرے لیے اچھی جزاہے لیکن کافروں نے جواعمال انجام دیئے ہیں ہم انہیں ( بہت جلد )آگاہ کردیں گے اورانہیں عذاب شدید چکھا ئیں گے۔
۵۱۔ اورجب ہم کسی انسان کوکوئی نعمت عطاکرتے ہیں توو ہ منہ پھیر لیتاہے اور تکبّر کی حالت میں حق سے دور ہوجاتاہے . لیکن جب بھی اسے تھوڑ ی سی تکلیف پہنچے تو ( اس کے دور ہونے کے لیے ) لمبی چوڑی دعائیں مانگتاہے۔
۵۲ ۔ کہہ دے : مجھے بتاؤ ، اگر یہ قرآن خداکی طرف سے ہو اور تم اس کانکار کرو تو اس سے مخالفت کرنے والوں سے بڑھ کرکون شخص گمراہ ہوگا ؟