اپنے علم پر گھمنڈکرنے والے
أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ۸۲فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۸۳فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ ۸۴فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ ۸۵
کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ہے کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے والوں کا انجام کیا ہوا ہے جو ان کے مقابلہ میں اکثریت میں تھے اور زیادہ طاقتور بھی تھے اور زمین میں آثار کے مالک تھے لیکن جو کچھ بھی کمایا تھا کچھ کام نہ آیا اور مبتلائے عذاب ہوگئے. پھر جب ان کے پاس رسول معجزات لے کر آئے تو اپنے علم کی بنا پر ناز کرنے لگے اور نتیجہ میں جس بات کا مذاق اُڑا رہے تھے اسی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا. پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے یکتا پر ایمان لائے ہیں اور جن باتوں کا شرک کیا کرتے تھے سب کا انکار کررہے ہیں. تو عذاب کے دیکھنے کے بعد کوئی ایمان کام آنے والا نہیں تھا کہ یہ اللہ کا مستقل طریقہ ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں گِزر چکا اَہے اور اسی وقت کافر خسارہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں.
جیساکہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ اس سورت میں بہت سے لوگوں کی گمراہی ، بے راہروی اور بد بختی کااصل سرچشمہ تکبر اورغر ور بتا یاگیاہے ۔
تکبر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں . کبھی تو مال و ثروت کی وجہ سے پیدا ہوتاہے ، کبھی افرادی قوت اورفوجی طاقت کی وجی طاقت کی وجہ سے کبھی تھوڑی سی معلومات کی وجہ سے جنہیں انسان عظیم علم تصوّر کرلیتا ہے ۔
جس کاجیتا جاگتا ثبوت ہمارے اس درد میں ترقی یافتہ مادی اقوام میں سائنس اور ٹیکنا لوجی کی ترقی کے بعد ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ مذہب کی نفی اورالحا وی مکاتب فکر کی ترویج کاایک اہم مئوثر عامل وہی علمی غرور ہے جو کئی سائنس دانوں کے اند ر پید ا ہوا . وہ فطرت کے بعض اسرار کاانکشاف اورسائنس معلومات حاصل کرکے اپنے علم کی وجہ سے اس قدر مغرور اور بد مست ہوگئے کہ یہ تصّور کر لیا کہ کائنات میں صرف وہی کچھ موجود ے جسے وہ جانتے ہیں اورجوان کے ہم میں نہیں اس کا وجود بھی نہیں ہے اور چونکہ انھوں نے خداکو اپنی لیبارٹریوں اوررصد گاہوں میں موجود نہیں یایاالہذا اس کے منکر ہوگئے ۔
یہ علمی غرور اس حدتک وسعت پیدا کرگیا کہ وہ سرے سے مذہب اور انبیاء پرنازل ہونے وحی کوبھی انسان کی جہالت زرخوف کی پیدائش سمجھنے لگے اور کہنا شروع کردیاکہ اب جبکہ علم اور سائنس اپنے عروج کما کی سرحد وں کوچھورہے ہیں ایسے مسائل کی ضرور ت باقی نہیں رہی ۔
اسی پر اکتفانہیں کیابلکہ اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور بشری زندگی کی چارادوار میں تقسیم کرڈالا :
۱۔ افسانوی دور
۲۔ مذہبی دور
۳۔ فلسفی دور
۴۔ سائنسی دور
البتہ ایسے دانشور وں کی فعالیت کے دور میں کچھ مذاہب کے خرافات پر مشتمل ہونے نے بھی ان کے باطل اور ناپاک مقاصد کو تقویت پہنچائی (البتہ زیادہ ترارباب کلیسا کی خرافات مراد ہیں ) اس طرح سے انہوں نے اپنے زعم باطل کے تحت مذہب اور انبیاء کی تعلیمات کوہمیشہ کے لیے انسانی زندگی کے پرو گرام سے خارج کردیا ۔
لیکن خوشی قسمتی سے یہ مستی اور غرور بھی نا پائیدار ثابت ہوئے اور دوسرے کچھ عوامل نے مل کر اس بے بنیاد نظر یئے پر خطِ تنسیخ کھینچ دیا . مندرجہ بالاآیات کے مصداق ” جب وہ اپنے علم پر مغرور ہوگئے توعذاب خدانے انہیں آلیا اوران کی چیخ وپکار انہیں کچھ فائدہ نہ پہنچاسکی “ ۔
ایک طرف تو پہلی اوردوسرعالمیگر جنگوں نے ثابت کردیا کہ سائنسی اور ٹیکنا لوجی کی ترقی نے انسان کونہ صرف خوش بخت نہیں بنایا بلکہ دوسرے ادوار سے کہیں زیادہ تباہی کے کنارے لاکھڑاکیاہے ۔
دوسری طرف مختلف قسم کی اجتماعی اوراخلاقی بے راہر وی ، طرح طرح کے مصائب ومشکلات ، بے انداز قتل وغارت اور نفسیاتی بیماریوں ، لوٹ مار اور جنسی مسائل نے ثابت کردیا کہ انسانی علوم خواہ جس قدر بھی ترقی کر جائیں تنہاوہ ان مشکلات کاحل پیش نہیں کر سکتے بلکہ ان کی غلط انداز میں تعلیم نے تو مشکلات میں اور بھی اضافہ کردیاہے ۔
تیسری طرف ، سائنسی علوم میں بہت سے معمے پیدا ہوگئے جن کوحل کرنے سے انسان نے خود کوعاجز پایااوراسے ایک نہیں کئی وسیع جہان نظرآنے لگے (خواہ وہ عظیم ترجہان ہوں یانہایت ہی چھوٹے ) انسان نے ان جہانوں کی شناخت سے بھی خود کوناتواں پایا تومجبوراً اسے انبیاء عظام کی تعلیمات کاسہارا لینا پڑ اور بہت بڑی تعداد میں دانشوروں کو وحی کے سائے میں پناہ لینا پڑی اورایسی جانکاہ بیماریوں کاعلاج ابنیاء کے فرامین میں ڈھونڈنے لگے . کلیساؤںمیں ایک پھر بہارآنے لگی اورمذہبی تعلیمات بہت سے لوگوں کی زندگی کاجز و قرار پائیں ۔
اس دوران میں اسلام اپنی مخصوص ، تازہ ، ترقی یافتہ اورجامع تعلیمات لے کر ظہور پذیر ہو ااور حقیقی اسلامی کی پہچان کی لگن لوگوں کے دل میں پیدا ہوئی ۔
ہمیں اُمید ہے کہ قبل اس کے بائس ( عذاب ) الہٰی ایک بار پھراس دنیا کے لوگوں پرنازل ہو، بیداری کی یہ لہر عمومی صورت اختیار کرلے گی اوراس غرور و تکبر کے آثار نیست وبابود ہوجائیں گے تاکہ انسانیت کو ایک بار پھر نقصان اورخسارہ نہ اُٹھا ناپڑے ۔
پر ور دگار ا! ہمیں غرور ،تکبر ، ضد ،ہٹ ،دھرمی اورخود خواہی سے اپنی امان میں رکھ کہ یہی چیز یں انسان کی ہلاکت ، بدبختی اور شرمساری کاسبب ہیں ۔
خداوند ا ! ہماری دنیا کو بیدار فر ما ! اور قبل اس کے تیری ” باس شدید“ ہمارے اس دور کے لوگوں کواپنی لپیٹ میں لے لے انہیں اپنے انبیاء کے محبت پھرے دامان کی طرف لوٹا ۔
بار ِ الہٰا ! ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جودوسروں کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہیں تاکہ ہمارا انجام دوسروں کے لیے عبرت نہ ہے ۔
امین یارب العالمین
سورہ مومن کی تفسیر تمام ہوئی