Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره مؤمن/ آیه 64- 66

										
																									
								

Ayat No : 64-66

: غافر

اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ۶۴هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ۗ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۶۵قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءَنِيَ الْبَيِّنَاتُ مِنْ رَبِّي وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۶۶

Translation

اللہ ہی وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مستقر اور آسمان کو عمارت قرار دیا ہے اور تمہاری صورت کو بہترین صورت بنایا ہے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے. وہی تمہارا پروردگار ہے تو عالمین کا پالنے والا کس قدر برکتوں کا مالک ہے. وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے لہٰذا تم لوگ اخلاص دین کے ساتھ اس کی عبادت کرو کہ ساری تعریف اسی عالمین کے پالنے والے خدا کے لئے ہے. آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پرستش کے قابل بنائے ہوئے ہو جب کہ میرے پاس کِھلی ہوئی نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کا اطاعت گزار بندہ رہوں.

Tafseer

									۶۴۔ اللَّہُ الَّذی جَعَلَ لَکُمُ الْاٴَرْضَ قَراراً وَ السَّماء َ بِناء ً وَ صَوَّرَکُمْ فَاٴَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَ رَزَقَکُمْ مِنَ الطَّیِّباتِ ذلِکُمُ اللَّہُ رَبُّکُمْ فَتَبارَکَ اللَّہُ رَبُّ الْعالَمینَ 
۶۵۔ہُوَ الْحَیُّ لا إِلہَ إِلاَّ ہُوَ فَادْعُوہُ مُخْلِصینَ لَہُ الدِّینَ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعالَمینَ 
۶۶۔قُلْ إِنِّی نُہیتُ اٴَنْ اٴَعْبُدَ الَّذینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ لَمَّا جاء َنِی الْبَیِّناتُ مِنْ رَبِّی وَ اٴُمِرْتُ اٴَنْ اٴُسْلِمَ لِرَبِّ الْعالَمینَ 

ترجمہ

۶۴۔ خداوہ ہے کہ جس نے تمہارے لئے زمین کوامن واطمینان کی جگہ بنایا ہے اورآسمانوں کو( تمہارے سروں پر ) چھت کے مانند اور تمہاری صورتیں بنائیں توخوب اچھی صورتیں بنائیں اورکھانے کو تمہیں ) پا کیزہ چیزیں عطاکیں یہ ہے خداتمہارا پر وردگار ، بابر کت ہے وہ خدا جو تمام عالمین کا پر ور دگار ہے ۔
۶۵۔ وہی صحیح معنوں میں زندہ ہے ،اس کے سواکوئی بھی لائق عبادت نہیں ، پس تم اسے ہی پکارو اور اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرو ، تعریف مخصوص ہے خدا کے لیے جو تمام عالمین کا پر ور دگار ہے ۔
۶۶۔ کہہ دے کہ مجھے اس بات سے روک دیاگیاہے کہ میں ان معبود وں کی پر ستش کروں جنہیں تم خدا کے علاوہ پکارتے ہو اورمجھے حکم دیاگیاہے کہ میںصرف عالمین کے رب کے حضور سر جھکاؤں ۔