سوره مؤمن/ آیه 41- 46
وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ ۴۱تَدْعُونَنِي لِأَكْفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَأَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ ۴۲لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا وَلَا فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَا إِلَى اللَّهِ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ ۴۳فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ ۚ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ۴۴فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا ۖ وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ ۴۵النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ ۴۶
اور اے قوم والو آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں نجات کی دعوت دے رہا ہوں اور تم مجھے جہّنم کی طرف دعوت دے رہے ہو. تمہاری دعوت یہ ہے کہ میں خدا کا انکار کردوں اور انہیں اس کا شریک بنادوں جن کا کوئی علم نہیں ہے اور میں تم کو اس خدا کی طرف دعوت دے رہا ہوں جو صاحب هعزّت اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے. بیشک جس کی طرف تم دعوت دے رہے ہو وہ نہ دنیا میں پکارنے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں اور ہم سب کی بازگشت بالآخر اللہ ہی کی طرف ہے اور زیادتی کرنے والے ہی دراصل جہّنم والے ہیں. پھر عنقریب تم اسے یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اور میں تو اپنے معاملات کو پروردگار کے حوالے کررہا ہوں کہ بیشک وہ تمام بندوں کے حالات کا خوب دیکھنے والا ہے. تو اللہ نے اس مرد مومن کو ان لوگوں کی چالوں کے نقصانات سے بچالیا اور فرعون والوں کو بدترین عذاب نے گھیر لیا. وہ جہّنم جس کے سامنے یہ ہر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو فرشتوں کو حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو بدترین عذاب کی منزل میں داخل کردو.
۴۱۔وَ یا قَوْمِ ما لی اٴَدْعُوکُمْ إِلَی النَّجاةِ وَ تَدْعُونَنی إِلَی النَّارِ ۔
۴۲۔ تَدْعُونَنی لِاٴَکْفُرَ بِاللَّہِ وَ اٴُشْرِکَ بِہِ ما لَیْسَ لی بِہِ عِلْمٌ وَ اٴَنَا اٴَدْعُوکُمْ إِلَی الْعَزیزِ الْغَفَّارِ ۔
۴۳۔ لا جَرَمَ اٴَنَّما تَدْعُونَنی إِلَیْہِ لَیْسَ لَہُ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیا وَ لا فِی الْآخِرَةِ وَ اٴَنَّ مَرَدَّنا إِلَی اللَّہِ وَ اٴَنَّ الْمُسْرِفینَ ہُمْ اٴَصْحابُ النَّارِ
۴۴۔ فَسَتَذْکُرُونَ ما اٴَقُولُ لَکُمْ وَ اٴُفَوِّضُ اٴَمْری إِلَی اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ بَصیرٌ بِالْعِبادِ
۴۵۔ فَوَقاہُ اللَّہُ سَیِّئاتِ ما مَکَرُوا وَ حاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوء ُ الْعَذابِ
۴۶۔ النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْہا غُدُوًّا وَ عَشِیًّا وَ یَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذاب
تر جمہ
۴۱۔ اے میر ی قوم ! کیاوجہ ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف دعوت دیتاہوں لیکن تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو ؟
۴۲۔ تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں خدا ئے واحد کامنکر ہوجاؤں اورجس کامجھے علم نہیں اسے میں اس کاشریک ٹھہراؤں. حلانکہ میں تو تمہیں خداوند عزیز کی طرف بلاتاہوں ۔
۴۳۔ جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہواس کی دنیا اورآخرت میں قطعاًکوئی دعوت ( اورحکومت ) نہیں اور قیامت کے دن ہم سب کی باز گشت صرف اورصرف خداکی طرف ہوگی اورمسرف لوگ تو ہیں ہی جہنمی ۔
۴۴۔ جومیں کہہ رہاہوں بہت جلد تم اسے سمجھ لوگے میں اپنا سارا کام خدا کے سپرد کرتاہوں وہ اپنے بندوں کے بار ے میں اچھی طرح سمجھتاہے ۔
۴۵۔ خدا نے اسے ان لوگوں کی بُری چالوں سے بچالیااور آل ِ فرعون پرسخت عذاب نازل کیا ۔
۴۶۔ان کاعذاب ،آگ ہے کہ ہرصبح شام جس کے پاس وہ پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ملے گاکہ آل فرعون کوسخت ترین عذاب میں بھیج دو ۔