Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره مؤمن/ آیه 34- 35

										
																									
								

Ayat No : 34-35

: غافر

وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ ۳۴الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ ۖ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ۳۵

Translation

اور اس سے پہلے یوسف علیھ السّلام بھی تمہارے پاس آئے تھے تو بھی تم ان کے پیغام کے بارے میں شک ہی میں مبتلا رہے یہاں تک کہ جب وہ دنیا سے چلے گئے تو تم نے یہ کہنا شروع کردیا کہ خدا اس کے بعد کوئی رسول نہیں بھیجے گا - اسی طرح خدا زیادتی کرنے والے اور شکی مزاج انسانوں کو ان کی گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے. جو لوگ کہ آیات الہٰی میں بحث کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس خدا کی طرف سے کوئی دلیل آئے وہ اللہ اور صاحبان هایمان کے نزدیک سخت نفرت کے حقدار ہیں اور اللہ اسی طرح ہر مغرور اور سرکش انسان کے دل پر لَہر لگادیتا ہے.

Tafseer

									۳۴۔وَ لَقَدْ جاء َکُمْ یُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّناتِ فَما زِلْتُمْ فی شَکٍّ مِمَّا جاء َکُمْ بِہِ حَتَّی إِذا ہَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَبْعَثَ اللَّہُ مِنْ بَعْدِہِ رَسُولاً کَذلِکَ یُضِلُّ اللَّہُ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ مُرْتابٌ ۔
۳۵۔ الَّذینَ یُجادِلُونَ فی آیاتِ اللَّہِ بِغَیْرِ سُلْطانٍ اٴَتاہُمْ کَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّہِ وَ عِنْدَ الَّذینَ آمَنُوا کَذلِکَ یَطْبَعُ اللَّہُ عَلی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ۔

ترجمہ

۳۴۔ اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس روشن دلائل لے کر آئے لیکن تم نے اس کی لائی ہوئی چیز وں میں اسی طرح شک کیا ، یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے سد ھارے ، تم نے کہ اکہ اس کے بعد خداقطعاً کسی کو رسول بناکر نہیں بھیجے گا ، خدا اسی طرح ہراسراف کرنے والے اور شک کرنے والے کوگمراہ کرتاہے ۔
۳۵۔ جولوگ خدا کی آیات کے بار ے میں مجادلہ کرتے ہیں بغیراس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو ان کا یہ کام خدا کے اوران کے شدید غضب کاموجب ہے جو ایمان لائے ہیں . اسی طرح خدا ہر متکبر جبار کے دل پر مہر لگادیتاہے ۔