Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ موٴمن آل ِفرعون کون تھا ؟

										
																									
								

Ayat No : 28-29

: غافر

وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ۲۸يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ يَنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللَّهِ إِنْ جَاءَنَا ۚ قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَىٰ وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ ۲۹

Translation

اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو حُھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے. میری قوم والو بیشک آج تمہارے پاس حکومت ہے اور زمین پر تمہارا غلبہ ہے لیکن اگر عذاب خدا آگیا تو ہمیں اس سے کون بچائے گا فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی باتیں بتارہا ہوں جو میں خود سمجھ رہا ہوں اور میں تمہیں عقلمندی کے راستے کے علاوہ اور کسی راہ کی ہدایت نہیں کررہا ہوں.

Tafseer

									قرآنی آیات سے اس قدرمعلوم ہوتاہے کہ وہ آل ِ فرعون میں سے تھا جو موسٰی علیہ السلام پرایمان لے آیاتھا لیکن اپنے ایمان کوچھپاتاتھ دل ہی دل میں موسٰی علیہ السلام سے محبت کرتاتھا اوراپنے آپ کوحضرت موسٰی علیہ السلام کافدع کرنے کاپابندسمجھتاتھا ۔
وہ نہایت زیرک ،سمجھداراورموقع شناس انسان تھا . منطق اوراستد لال میں نہایت قوی تھا اوراس قدر باسمجھ انسان تھا کہ نہایت ہی حساس لمحات میں حضرت موسٰی علیہ السلام کی مدد کوپہنچااور جیسا کہ بعد کی آیات میں سے پتہ چلے گا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کوقتل جیسی خطر ناک سازش سے نجات دلائی ۔
اسلامی روایات اورمفسرین کے اقوال میں اس شناس شخص کی بہت تعریف کی گئی ہے ۔
جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ : وہ فرعون کاچچازاد بھائی تھا اورانہوں نے ” آل فرعون“ کی تعبیرکو بھی اس معنی پر گواہ سمجھاہے کیونکہ عموماً آل کااطلاق نزدیکی رشتہ داروں پر ہوتاہے ہرچند کہ دوست واحباب پر بھی لفظ بولاگیاہے ۔ 
بعض دوسرے مفسرین اسے اللہ کاایک نبی سمجھتے ہیں جس کانام ” حزبیل “ یاحزقیل تھا ( ۱)۔
بعض روایت کرتے ہیں کہ وہ فرعون کے ( گنجنیوں اورخزانوں کاسرپرست اور ) خازن تھا ( ۲)۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ فرعون والوں میں سے صرف تین افراد حضرت موسٰی علیہ السلام پرایمان لاتے تھے ، ایک توموٴ من آل ِ فرعون ، دوسرے فر عون کی زوجہ او رتیسرے وہ شخص جس نے حضرت موسٰی کو نبوت ملنے سے پہلے خبر دار کیا کہ :
فرعون کے درباری اپنے ایک پیرو کارکے قتل کے بدلے آپ کوقتل کرناچاہتے ہیں لہذا جتنا جلدی ہو سکے آپ مصر سے نکل جائیں ۔ ( قصص . ۲۰) 
لیکن کچھ ایسے قرئن بھی ملتے ہیں جن سے یہ پتہ چلتاہے کہ موسٰی علیہ السلام کے جادوگر وں کے ساتھ مقابلے کے بعد لوگوں کی بہت بڑی تعداد موسٰی پر ایمان لے آئی تھی اور بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ موٴمن آل فرعون کاماجرا جادوگروں کے واقعے کے بعد کاہے ۔ 
بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ موٴمن آل فرعون کاتعلق دراصل بنی اسرائیل سے تھا جو فرعونیوں میں گھل مل کرزندگی بسرکر رہاتھا اوراس پران کابہت حدتک اعتماد بھی تھا لیکن یہ احتمال کافی حد تک ضعیف نظر آتاہے کیونکہ یہ ایک تو” آل فرعون “ کی اور دوسرے ” یاقوم“ (اے میری قوم ) کی تعبیرسے ہم آہنگ نہیں ہے البتہ موسٰی اور بنی اسرائیل کی تاریخ میںاس کامسلم اورموٴثر کردار مکمل طور پر واضح ہے . اگرچہ اس کی زندگی کے تمام پہلو ہمیں آج تک واضح طور پر معلوم نہیں ہیں ۔
۱۔ یہ معنی پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک روایت سے نقل کیاگیاہے (ملاحظہ ہوامالی شیخ صدوق منقول با زتفسیر نور الثقلین جلد ۴ ،ص ۵۱۹ ) لیکن اگردیکھاجائے تو ” حزقیل “ نبی اسرائیل کے ابنیاء میں سے تھے . لہذا یہ احتمال بعید معلوم ہوتاہے اور مندرجہ بالاروایت بھی سند کے لحاظ سے ضعیف ہے . یہ اوربات ہے کہ یہ حز قیل بنی اسرائیل کے وہ مشہور بنی نہ ہوں بلکہ اس نام کاکوئی اور شخص ہو ۔
۲۔ یہ معنی علی بن ابراہیم کی تفسیرمیں بھی آیاہے (تفسیرنورالثقلین جلد ۴ ، ۵۱۸)۔