سوره مؤمن/ آیه 28- 29
وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ ۖ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ۲۸يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ يَنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللَّهِ إِنْ جَاءَنَا ۚ قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَىٰ وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ ۲۹
اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو حُھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے. میری قوم والو بیشک آج تمہارے پاس حکومت ہے اور زمین پر تمہارا غلبہ ہے لیکن اگر عذاب خدا آگیا تو ہمیں اس سے کون بچائے گا فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی باتیں بتارہا ہوں جو میں خود سمجھ رہا ہوں اور میں تمہیں عقلمندی کے راستے کے علاوہ اور کسی راہ کی ہدایت نہیں کررہا ہوں.
۲۸۔ وَ قالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ إیمانَہُ اٴَ تَقْتُلُونَ رَجُلاً اٴَنْ یَقُولَ رَبِّیَ اللَّہُ وَ قَدْ جاء َکُمْ بِالْبَیِّناتِ مِنْ رَبِّکُمْ وَ إِنْ یَکُ کاذِباً فَعَلَیْہِ کَذِبُہُ وَ إِنْ یَکُ صادِقاً یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذی یَعِدُکُمْ إِنَّ اللَّہَ لا یَہْدی مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ ۔
۲۹۔ یا قَوْمِ لَکُمُ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ظاہِرینَ فِی الْاٴَرْضِ فَمَنْ یَنْصُرُنا مِنْ بَاٴْسِ اللَّہِ إِنْ جاء َنا قالَ فِرْعَوْنُ ما اٴُریکُمْ إِلاَّ ما اٴَری وَ ما اٴَہْدیکُمْ إِلاَّ سَبیلَ الرَّشادِ ۔
ترجمہ
۲۸۔ آل ِ فرعون میں سے ایک مومن شخص نے کہ جو اپنے ایمان کوچھپائے ہوئے تھا کہا: آیاتم ایسے شخص کو قتل کرناچاہتے ہو جو یہ کہتاہے کہ میرا رب اللہ ہے ، جبکہ وہ تمہار ے رب کی رف سے واضح دلائل بھی لاچکا ہے ، اگر وہ جھوٹا ہے توجھوٹ خود اس کادامن پکڑے گا اوراگر سچّا ہے تو ( کم از کم ) تمہیں جن بعض عذابوں کی وعید دیتاہے وہ تم تک پہنچ جائیں گے .خدا وند اس شخص کوہدایت نہیں کرتاجو اسراف کرنے والا ہوتاہے اورجوبہت ہی جھوٹا ہوتاہے ۔
۲۹۔ اے میری قوم ! آ ج حکومت تمہارے پاس ہے اور تم اس سرزمین میں کامیاب بھی ہو . اگرعذاب ِ الہٰی ہمارے پاس آبھی گیاتو پھرکون ہماری مدد کرے گا ؟فرعو ن نے کہا : میں اس کے سواتمہیں اور کچھ نہیں دکھا سکتاجس کامیں اعتقاد رکھتاہوں اور حق و کا میابی کی راہ کے علاوہ تمہیں کسی اورچیز کی دعوت نہیں دیتا( موسٰی کے قتل کے سوا اورکچھ نہیں ہوسکتا )۔