سوره مؤمن/ آیه 21- 22
أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ ۲۱ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَكَفَرُوا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ ۲۲
کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے والوں کا انجام کیا ہوا ہے جو ان سے زیادہ زبردست قوت رکھنے والے تھے اور زمین میں آثار کے مالک تھے پھر خدا نے انہیں ان کے گناہوں کی گرفت میں لے لیا اور اللہ کے مقابلہ میں ان کا کوئی بچانے والا نہیں تھا. یہ سب اس لئے ہوا کہ ان کے پاس رسول کِھلی ہوئی نشانیاں لے کر آتے تھے تو انہوں نے انکار کردیا تو پھر خدا نے بھی انہیں اپنی گرفت میں لے لیا کہ وہ بہت قوت والا اور سخت عذاب کرنے والا ہے.
۲۱۔اٴَ وَ لَمْ یَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الَّذینَ کانُوا مِنْ قَبْلِہِمْ کانُوا ہُمْ اٴَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّةً وَ آثاراً فِی الْاٴَرْضِ فَاٴَخَذَہُمُ اللَّہُ بِذُنُوبِہِمْ وَ ما کانَ لَہُمْ مِنَ اللَّہِ مِنْ واقٍ ۔
۲۲۔ ذلِکَ بِاٴَنَّہُمْ کانَتْ تَاٴْتیہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّناتِ فَکَفَرُوا فَاٴَخَذَہُمُ اللَّہُ إِنَّہُ قَوِیٌّ شَدیدُ الْعِقابِ۔
ترجمہ
۲۱۔ کیاانہوں نے روئے زمین کی سیرنہیں کی تاکہ وہ دیکھتے کہ جولوگ ان سے پہلے تھے ان کاکیا انجام ہوا ؟ وہ قدر ت و طاقت اورزمین میںآثار کے لحاظ سے ان سے بہت زیادہ تھے . لیکن خدانے نہیںان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیااور انہیں (عذاب ِ ) خداسے بچانے والا کوئی نہیں تھا ۔
۲۲۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ ان کے رسول انکے پاس ہمیشہ واضح دلائل لے کرآتے رہے لیکن وہ سب کاانکار کرتے رہے لہذا خداوندعالم نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا ( اورانہیں سزادی ) کیونکہ وہ قوی اور شدید العقاب ہے ۔