۱۔ کافروں کی ظاہری شان و شوکت
مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ ۴كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَالْأَحْزَابُ مِنْ بَعْدِهِمْ ۖ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ ۖ وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ۵وَكَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ أَصْحَابُ النَّارِ ۶
اللہ کی نشانیوں میں صرف وہ جھگڑا کرتے ہیں جو کافر ہوگئے ہیں لہٰذا ان کا مختلف شہروں میں چکر لگانا تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے. ان سے پہلے بھی نوح علیھ السّلام کی قوم اور اس کے بعد والے گروہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہے اور ہر امت نے اپنے رسول کے بارے میں یہ ارادہ کیا ہے کہ اسے گرفتار کرلیں اور باطل کا سہارا لے کر جھگڑا کیا ہے کہ حق کو اُ کھاڑ کر پھینک دیں تو ہم نے بھی انہیں اپنی گرفت میں لے لیا تو تم نے دیکھا کہ ہمارا عذاب کیسا تھا. اور اسی طرح تمہارے پروردگار کا عذاب کافروں پر ثابت ہوچکا ہے کہ و ہ جہّنم میں جانے والے ہیں.
قرآنی آیات میں ہمیں بار بار یہ بات نظرآتی ہے کہ غریب اور مظلوم موٴمن یہ ہرگز تصوّر نہ کریں کہ بعض اوقات وسیع پیمانے پر کچھ مسائل ظالم و جابر اور بے ایما ن افرادیامعاشرے کو مل جاتے ہیں تو یہ ان کی سعادت اور نیک بختی کی دلیل ہوتے ہیں یاان کے کامیاب انجام کی علامت ہوتے ہیں ۔
خاص کر قرآن مجید ان کو تاہ فکراور کوتاہ نظر افراد کی اس سوچ پر خطِ تنسیخ کھینچتا ہے جو بعض اوقات کچھ لوگوں کے مادی وسائل کو ان کی روحانی حقا نیت کی دلیل سمجھ لیتے ہیں .گز شتہ اقوام کی تاریخ کو مومنین کے لیے پیش کرتے ہوئے ان کے واضح نمونوں کی نشاندہی کرتاہے . جیسے مصر میں فرعونی حکمرانوں کے ، با بل میں نمردیوں کے ، عراق، حجاز اور شامات میں قوم نوح ِ ،عاد اور ثمودکے نمونے . تاکہ ایسانہ ہوکہ غریب اور تنگ دست مومن کسی قسم کی کمی اور کمزوری کا احساس کریں اور ظالموں کے ظاہری کر و فر سے مرعوب ہوجائیں یاسست پڑ جائیں ۔
البتہ قانونِ قدرت یہ نہیں ہے کہ جس نے بھی کسی قسم کی خلاف ورزی کی اسے فوراً اس کے کئے کی سزادے دی گئی . جیسا کہ سورہ ٴ کہف کی آیت ۵۹ میں ہے :
وَ جَعَلْنا لِمَہْلِکِہِمْ مَوْعِداً
ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کردیاہے ۔
سورہ ٴ طارق کی آیت۱۷ میں فر مایا گیاہے :
فَمَہِّلِ الْکافِرینَ اٴَمْہِلْہُمْ رُوَیْداً
کافروں کو تھوڑی سی مہلت دے دیجئے تاکہ ان کاانجام کار واضح ہوجائے ۔
سورہ ٴ آل عمران کی آیت ۱۷۸ میں فر مایاگیاہے :
إِنَّما نُمْلی لَہُمْ لِیَزْدادُوا إِثْماً
ہم ان کواس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ ان کے گناہ زیادہ ہو جائیں
المختصر اس قسم کی مہلت کامقصد یاتو کفار پر اتمام حجت ہے یا مومنین کی آزمائش اور یاپھر جن لوگوں نے اپنے اوپر توبہ کے دروازے بند کرلیے ہیں ان کے گناہوں میں اضافہ ۔
اس قسم کی صورتِ حال بعض اوقات ان بعض مادی لحاظ سے پسماندہ مومن قوموں کودرپیش آتی ہے کہ جو طاقتور ظالم مادی حکومتوں کی ترقی کودیکھتی ہیں تو ان کے دل میں احساس کمتر ی پیدا ہوتاہے . ایسی اقوام کوچاہیے کہ وہ مندرجہ بالا قرآنی منطق کوپیش نظر رکھ کر ان کاڈٹ کرمقابلہ کریں ۔
اس قسم کے علاوہ انہیں یہ بھی باور کرنا چاہیئے کہ ان کی اس محرومی اور پسماندگی کاسب سے اہم سبب ظالموں کاظلم ہی ہے کہ اگروہ ان کے ظلم کی یہ زنجیر یں توڑ ڈالیں اوران کی غلامی سے نجات پاکر اپنی شبانہ روزی کوششوں اور سعیِ مسلسل میں لگ جائیں تو اس پسماندگی کاازالہ کرسکتی ہیں ۔