۴۔ لا إِلہَ إِلاَّ ہُو کامفہوم اس آیت میں
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ حم ۱تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ۲غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ ۳
حم ۤ. یہ خدائے عزیز و علیم کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے. وہ گناہوں کا بخشنے والا, توبہ کا قبول کرنے والا, شدید عذاب کرنے والا اور صاحب هفضل و کرم ہے - اس کے علاوہ دوسرا خدا نہیں ہے اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے.
یہ امر بھی توجہّ ہے کہ ”لا إِلہَ إِلاَّ ہُو “ کاجملہ جوآخری صفت کے طور پر آیاہے اور ” توحید عبودیت “ کوبیان کررہاہے اورغیر اللہ کی نفی کررہاہے درحقیقت آخری صفت اورآخری نتیجہ کے طور پر بیان ہوا ہے . یہی وجہ ہے کہ ہم ابن عباس کی بیان کردہ ایک روایت میںپڑھتے ہیں کہ :
” وہ ” غافِرِ الذَّنْبِ“ ہے ا س شخص کے لیے جو ” لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ کہے “
” وہ ” َ قابِلِ التَّوْب“ ہے اس شخص کے لیے جو ” لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ کہے “
” وہ ” شَدیدِ الْعِقاب“ ہے اس شخص کے لیے جو ” لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ نہ کہے اور
” وہ ”ذِی الطَّوْل “ ہے اس شخص کے لیے جو ’ ’لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ نہ کہے “ ۔
پس بنابریں ان تمام صفات کا محوردہ لوگ ہیں جو توحید پر ایمان رکھتے ہیں اوران کاقول وعمل توحید کے جادہ سے منحرف نہ ہو ۔