Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره صافات / آیه 139 - 148

										
																									
								

Ayat No : 139-148

: الصافات

وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ۱۳۹إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ ۱۴۰فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ ۱۴۱فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ۱۴۲فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ ۱۴۳لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۱۴۴فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ ۱۴۵وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ ۱۴۶وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ ۱۴۷فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ۱۴۸

Translation

اور بیشک یونس علیھ السّلام بھی مرسلین میں سے تھے. جب وہ بھاگ کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف گئے. اور اہل کشتی نے قرعہ نکالا تو انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا. پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا جب کہ وہ خود اپنے نفس کی ملامت کررہے تھے. پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے. تو روزِ قیامت تک اسی کے شکم میں رہ جاتے. پھر ہم نے ان کو ایک میدان میں ڈال دیا جب کہ وہ مریض بھی ہوگئے تھے. اور ان پر ایک کدو کا درخت اُگادیا. اور انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ کی قوم کی طرف نمائندہ بناکر بھیجا. تو وہ لوگ ایمان لے آئے اور ہم نے بھی ایک مدّت تک انہیں آرام بھی دیا.

Tafseer

									۱۴۱۔وَ إِنَّ یُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلینَ ۔
۱۴۲۔إِذْ اٴَبَقَ إِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُونِ ۔
۱۴۳۔ فَساہَمَ فَکانَ مِنَ الْمُدْحَضین۔
۱۴۲۔ فَالْتَقَمَہُ الْحُوتُ وَ ہُوَ مُلیمٌ ۔
۱۴۳۔فَلَوْ لا اٴَنَّہُ کانَ مِنَ الْمُسَبِّحینَ ۔
۱۴۴۔لَلَبِثَ فی بَطْنِہِ إِلی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ۔
۱۴۵۔فَنَبَذْناہُ بِالْعَراء ِ وَ ہُوَ سَقیمٌ ۔
۱۴۶۔ وَ اٴَنْبَتْنا عَلَیْہِ شَجَرَةً مِنْ یَقْطینٍ ۔
۱۴۷۔ وَ اٴَرْسَلْناہُ إِلی مِائَةِ اٴَلْفٍ اٴَوْ یَزیدُونَ ۔
۱۴۸۔ فَآمَنُوا فَمَتَّعْناہُمْ إِلی حینٍ ۔

تر جمہ

۱۳۹۔اور یونس ہمار ے رسولوں میں سے تھا ۔
۱۴۰۔وہ وقت یاد کر و جب وہ (لوگوں اوروزن سے ) لدی کشتی کی طرف نکل گیا ۔
۱۴۱۔اوران کے ساتھ قُرعہ ڈالااور ( قرعہ انہیں کے نام کانکلااور وہ ) مغلوب ہوگیا ۔
۱۴۲۔( انہو ںنے اسے دریامیںپھینک دیا) اورا یک بہت بڑی مچھلی نے اسے نگل لیا، اس حال میں کہ وہ ملامت کامستحق تھا ۔
۱۴۳۔اوراگروہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا ۔
۱۴۴۔تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیت میں ہی رہتا ۔
۱۴۵۔ ( بہرحا ل ہم نے اسے رہائی بخشی اور ) اسے ایک خشک زمین میں جوگھاس اور سبز ے سے خالی تھی ،پھینک دیا اس حالت میں کہ وہ بیمار تھا ۔
۱۴۶۔ اور ہم نے کدو کی بیل اس کے اوپر اگادی ( تاکہ وہ اس کے چوڑ ے اور مرطوب پتوں کے سایے میں آ رام پائے ) ۔ 
۱۴۷۔اور ہم نے اسے ایک لاکھ افراد یا اس سے زیادہ جمعیّت کی طر ف بھیجا ۔
۱۴۸۔تو وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں ایک مدّت معلوم تک زندگی کی نعمات سے بہرہ مندکیا ۔