سوره صافات / آیه 83 - 94
وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ ۸۳إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ۸۴إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ ۸۵أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ ۸۶فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۸۷فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ ۸۸فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ ۸۹فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ ۹۰فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ ۹۱مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ ۹۲فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ ۹۳فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ ۹۴
اور یقینا نوح علیھ السّلام ہی کے پیروکاروں میں سے ابراہیم علیھ السّلام بھی تھے. جب اللہ کی بارگاہ میں قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوئے. جب اپنے مربّی باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ کس کی عبادت کررہے ہو. کیا خدا کو چھوڑ کر ان خود ساختہ خداؤں کے طلب گار بن گئے ہو. تو پھر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے. پھر ابراہیم علیھ السّلام نے ستاروں میں وقت نظر سے کام لیا. اور کہا کہ میں بیمار ہوں. تو وہ لوگ منہ پھیر کر چلے گئے. اور ابراہیم علیھ السّلام نے ان کے خداؤں کی طرف رخ کرکے کہا کہ تم لوگ کچھ کھاتے کیوں نہیں ہو. تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ بولتے بھی نہیں ہو. پھر ان کی مرمت کی طرف متوجہ ہوگئے. تو وہ لوگ دوڑتے ہوئے ابراہیم علیھ السّلام کے پاس آئے.
۸۳۔ وَ إِنَّ مِنْ شیعَتِہِ لَإِبْراہیمَ ۔
۸۴۔ إِذْ جاء َ رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلیم۔
۸۵۔ إِذْ قالَ لِاٴَبیہِ وَ قَوْمِہِ ما ذا تَعْبُدُونَ ۔
۸۶۔ اٴَ إِفْکاً آلِہَةً دُونَ اللَّہِ تُریدُونَ ۔
۸۷۔ فَما ظَنُّکُمْ بِرَبِّ الْعالَمینَ ۔
۸۸۔فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُومِ ۔
۸۹۔فَقالَ إِنِّی سَقیمٌ ۔
۹۰۔فَتَوَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرینَ ۔
۹۱۔فَراغَ إِلی آلِہَتِہِمْ فَقالَ اٴَ لا تَاٴْکُلُونَ ۔
۹۲۔ما لَکُمْ لا تَنْطِقُونَ ۔
۹۳۔فَراغَ عَلَیْہِمْ ضَرْباً بِالْیَمینِ ۔
۹۴۔ فَاٴَقْبَلُوا إِلَیْہِ یَزِفُّونَ ۔
ترجمہ
۸۳۔ اور ابراہیم اس ( نوح ) کے پیرو کاروں میں سے تھا ۔
۸۴۔ یاد کر و اس وقت کو جبکہ وہ قلب ِ سلیم کے ساتھ اپنے پروردگار کی بار گا ہ میں آیا ۔
۸۵۔ جس وقت اس نے اپنے باپ ( یعنی چچا ) اوراپنی قوم سے کہا:کہ یہ کہا چیز ہیں جنہیں تم پوجتے ہو ؟
۸۶۔ کیاخدا کو چھوڑ کران جھوٹے معبود وں کی طرف جاتے ہو ؟
۸۷۔تم پر وردگار ِ عالمین کے بار ے میں کہاگمان کرتے ہو ؟
۸۸۔ (پھر ) اس نے ستاروں کی طرف ایک نگاہ ڈالی ۔
۸۹۔اور کہا میں تو بیمار ہوں ( اور تمہارے ساتھ جشن میں نہیں جاسکتا ) ۔
۹۰۔ انھوں نے اس سے منہ پھیر لیا ( تیزی کے ساتھ اس سے دُور ہوگئے ) ۔
۹۱۔ (وہ بُت خانہ میں داخل ہو ا ) چپکے سے ان کے معبودوں پر ایک نظر ڈالی اورتمسخر کے طورپر کہا: ان غذ اؤں میں سے کھاتے کیوں نہیں ہو ؟
۹۲ ۔تمہیں کیا ہوگیا ہے ، تم بولتے کیوں نہیں ؟
۹۳ ۔ اس کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے ایک پوری توجہّ کے ساتھ ان کے جسم پر ایک زور دار ضرب لگائی ( اور بڑ ے بُت کے سواسب کوتوڑ پھوڑ کے رکھ دیا ) ۔
۹۴۔ وہ تیزی سے اس کے پاس آئے ۔