Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره عنکبوت / آیه 61 - 66

										
																									
								

Ayat No : 61-66

: العَنکبوت

وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ۶۱اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۶۲وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۚ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ۶۳وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ۶۴فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ ۶۵لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ وَلِيَتَمَتَّعُوا ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ۶۶

Translation

اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور آفتاب و ماہتاب کو کس نے لَسخّر کیا ہے تو فورا کہیں گے کہ اللہ,تو یہ کدھر بہکے چلے جارہے ہیں. اللرُ ہی جس کے رزق میں چاہتا ہے وسعت پیدا کردیتا ہے اور جس کے رزق کو چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے وہ ہر شے کا خوب جاننے والا ہے. اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کس نے آسمان سے پانی برسایا ہے اور پھر زمین کو مفِدہ ہونے کے بعد زندہ کیا ہے تو یہ کہیں گے کہ اللہ ہی ہے تو پھر کہہ دیجئے کہ ساری حمد اللہ کے لئے ہے اور ان کی اکثریت عقل استعمال نہیں کررہی ہے. اور یہ زندگانی دنیا ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے اور آخرت کا گھر ہمیشہ کی زندگی کا مرکز ہے اگر یہ لوگ کچھ جانتے اور سمجھتے ہوں. پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں پھر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچادیتا ہے تو فورا شرک اختیار کرلیتے ہیں. تاکہ جو کچھ ہم نے عطا کیا ہے اس کا انکار کردیں اور دنیا میں مزے اُڑائیں تو عنقریب انہیں اس کا انجام معلوم ہوجائے گا.

Tafseer

									61.وَ لَئِنْ سَاٴَلْتَہُمْ مَنْ خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُولُنَّ اللَّہُ فَاٴَنَّی یُؤْفَکُونَ ۔
62. اللَّہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ مِنْ عِبادِہِ وَ یَقْدِرُ لَہُ إِنَّ اللَّہَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیمٌ ۔
63. وَ لَئِنْ سَاٴَلْتَہُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّماء ِ ماء ً فَاٴَحْیا بِہِ الْاٴَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہا لَیَقُولُنَّ اللَّہُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّہِ بَلْ اٴَکْثَرُہُمْ لا یَعْقِلُونَ ۔
64. وَ ما ہذِہِ الْحَیاةُ الدُّنْیا إِلاَّ لَہْوٌ وَ لَعِبٌ وَ إِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَہِیَ الْحَیَوانُ لَوْ کانُوا یَعْلَمُونَ ۔
65. فَإِذا رَکِبُوا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللَّہَ مُخْلِصینَ لَہُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجَّاہُمْ إِلَی الْبَرِّ إِذا ہُمْ یُشْرِکُونَ ۔
66. لِیَکْفُرُوا بِما آتَیْناہُمْ وَ لِیَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ ۔

ترجمہ


۶۱ ۔ اگرا ن سے تو پوچھے کہ آسمانوں اور زمینوں کوکس نے خلق کیااورکس نے تمہارے لیے شمس و قمر کو مسخر کیاہے ، تووہ کہیں گے اللہ نے تو پھر وہ ( عبادت خداسے منحرف کیوں ہورہے ہیں ؟ 
۶۲ ۔ خدا اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی کوفراخ کردیتا ہے اورجس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے . خدا ہرچیز کاجاننے والا ہے ۔
۶۳ ۔ اگرتوان سے پوچھے کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا اوراس کے وسیلہ سے زمین کواس کی موت کے بعد کس نے زندہ کردیا ؟ توکہیں گے کے اللہ نے توان سے کہہ :تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں . مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھتے ۔
۶۴۔ یہ دنیا کی زندگی تولہوولعب کے سواکچھ نہیں اورحقیقی زندگی کامقام تودار آخرت ہی ہے کاش کہ وہ لوگ جانتے ۔
۶۵ ۔ جب یہ لوگ کشتی میں س وار ہوتے ہیں توخلوص کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں ( اور اس کے غیرکو بھول جاتے ہیں ) .مگر جب اللہ انھیں نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تووہ پھر شرک کرنے لگتے ہیں ۔
۶۶۔ ( چھوڑو انہیں ) تاکہ ہم جو آیات انھیں بخشی ہیں ان کا انکار کرین اور دنیا کی زود گز ر لذّات سے فائدہ اٹھائیں . لیکن بہت جلد انھیں معلوم ہوجائے گا ۔