Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره قصص / آیه 79 - 82

										
																									
								

Ayat No : 79-82

: القصص

فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ ۖ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ۷۹وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ ۸۰فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِينَ ۸۱وَأَصْبَحَ الَّذِينَ تَمَنَّوْا مَكَانَهُ بِالْأَمْسِ يَقُولُونَ وَيْكَأَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ ۖ لَوْلَا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا ۖ وَيْكَأَنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ ۸۲

Translation

پھر قارون اپنی قوم کے سامنے زیب و زینت کے ساتھ برآمد ہوا تو جن لوگوں کے دل میں زندگانی دنیا کی خواہش تھی انہوںنے کہنا شروع کردیا کہ کاش ہمارے پاس بھی یہ ساز و سامان ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے یہ تو بڑے عظیم حصہ ّ کا مالک ہے. اور جنہیں علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ افسوس تمہارے حال پر - اللرُ کا ثواب صاحبان هایمان و عمل صالح کے لئے اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے اور وہ ثواب صبر کرنے والوں کے علاوہ کسی کو نہیں دیا جاتا ہے. پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر بار کو زمین میں دھنسا دیا اور نہ کوئی گروہ خدا کے علاوہ بچانے والا پیدا ہوا اور نہ وہ خود اپنا بچاؤ کرنے والا تھا. اور جن لوگوں نے کل اس کی جگہ کی تمناّ کی تھی وہ کہنے لگے کہ معاذ اللہ یہ تو خدا جس بندے کے لئے چاہتا ہے اس کے رزق میں وسعت پیدا کردیتا ہے اور جس کے یہاں چاہتا ہے تنگی پیدا کردیتا ہے اور اگر اس نے ہم پر احسان نہ کردیا ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیا ہوتا معاذاللرُ کافروں کے لئے واقعا فلاح نہیں ہے.

Tafseer

									۷۹۔ فَخَرَجَ عَلی قَوْمِہِ فی زینَتِہِ قالَ الَّذینَ یُریدُونَ الْحَیاةَ الدُّنْیا یا لَیْتَ لَنا مِثْلَ ما اٴُوتِیَ قارُونُ إِنَّہُ لَذُو حَظٍّ عَظیمٍ 
۸۰۔وَ قالَ الَّذینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ وَیْلَکُمْ ثَوابُ اللَّہِ خَیْرٌ لِمَنْ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً وَ لا یُلَقَّاہا إِلاَّ الصَّابِرُونَ 
۸۱۔فَخَسَفْنا بِہِ وَ بِدارِہِ الْاٴَرْضَ فَما کانَ لَہُ مِنْ فِئَةٍ یَنْصُرُونَہُ مِنْ دُونِ اللَّہِ وَ ما کانَ مِنَ المُنْتَصِرینَ 
۸۲۔وَ اٴَصْبَحَ الَّذینَ تَمَنَّوْا مَکانَہُ بِالْاٴَمْسِ یَقُولُونَ وَیْکَاٴَنَّ اللَّہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ مِنْ عِبادِہِ وَ یَقْدِرُ لَوْ لا اٴَنْ مَنَّ اللَّہُ عَلَیْنا لَخَسَفَ بِنا وَیْکَاٴَنَّہُ لا یُفْلِحُ الْکافِرُونَ 

ترجمہ



۷۹ ۔ ( ایک روز )قارون بڑی سج دھج اور اٹھا ٹھ کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا ۔ وہ لوگ جو دنیا وی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے : جیساکہ مال و متاع قارون کو ملا ہے ، کاش ہمارے پاس بھی ہوتا یقینا اس کے پاس تو ( دولت کا )بہت بڑا حصہ ہے ۔
۸۰۔ اور جن لوگوں کوعلم دیاگیاتھا وہ کہنے لگے کہ تم پرافسوس ہے . ثواب الہٰی بہتر ہے ،ان لوگوں کے پاس لیے جوا یمان لاتے اورعمل صالح انجام دیتے ہیں. لیکن اسے صابر وں کے سوا کوئی نہیں پاسکتا ۔
۸۱ ۔آخر کارہم نے اسے اوراس کے گھرکو زمین میں دھنسادیا . اور عذاب الہٰی کے مقابلے میں کوئی جماعت اس کی مدد نہ کرسکی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کر سکا ۔
۸۲۔ اور وہ لوگ جوکل اس کی مقام و منزلت کی تمنا کرتے تھے .( جب انہوں نے یہ منظر دیکھاتو ) کہتے لگے : 
وائے ہو ہم پر ،یہ تواللہ ہی ہے کہ جواپنے بندوں میں جسے چاہتاہے اس پر روز کو فراخ کردیتاہے ، اور جس پرچاہتاہے تنگ کردیتاہے . اگر خداہم پر احسان نہ کرتا توہمیں زمین بھی زمین میں دھنسادیتااے افسوس ! کا فروں پرکہ وہ پرگز نجات نہیں پاسکتے ۔