سوره قصص / آیه 61 - 64
أَفَمَنْ وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَنْ مَتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ ۶۱وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ ۶۲قَالَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنَاهُمْ كَمَا غَوَيْنَا ۖ تَبَرَّأْنَا إِلَيْكَ ۖ مَا كَانُوا إِيَّانَا يَعْبُدُونَ ۶۳وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَأَوُا الْعَذَابَ ۚ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَهْتَدُونَ ۶۴
کیا وہ بندہ جس سے ہم نے بہترین وعدہ کیا ہے اور وہ اسے پا بھی لے گا اس کے مانند ہے جسے ہم نے دنیا میں تھوڑی سی لذّت دے دی ہے اور پھر وہ روزہ قیامت خدا کی بارگاہ میں کھینچ کر حاضر کیا جائے گا. جس دن خدا ان لوگوں کو آواز دے گا کہ میرے وہ شرکائ کہاں ہیں جن کی شرکت کا تمہیں خیال تھا. تو جن شرکائ پر عذاب ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ پروردگار یہ ہیں وہ لوگ جن کو ہم نے گمراہ کیا ہے اور اسی طرح گمراہ کیا ہے جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے لیکن اب ان سے برائت چاہتے ہیں یہ ہماری عبادت تو نہیں کررہے تھے. تو کہا جائے گا کہ اچھا اپنے شرکائ کو پکارو تو وہ پکاریں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے بلکہ عذاب ہی کو دیکھیں گے تو کاش یہ دنیا ہی میں ہدایت یافتہ ہوجاتے.
۶۱۔ افمن وعدنہ وعداحسنا فھولا قیہ کمن متعنہ متاع الحیوة الدنیا ثم ھو یوم القیمة من المحضرین
۶۲۔ ویوم ینادیھم فیقول این شرکاء ی الذین کنتم تزعمون
۶۳۔قال الذین حق علیھم القول ربنا ھولاء الذین اغوینا اغوینھم کماغوینا تبراناالیک ماکانوآ ایانا یعبدون
۶۴۔وقیل ادعو اشرکاء کم فد عوھم فلم یستجیبون الھم وراواالعذاب لوانھم کانو یھتدون
ترجمہ
۶۱۔وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہواو روہ اسے حاصل کرلے .کیاوہ اس شخص جیساہے جسے ہم نے حیات دنیاکی متاع دی ہے اور پھر وہ قیامت کے رو ز (برائے حساب وجزا ) پیش کیاجائے گا ۔
۶۲۔ اور وہ دن ،جس روز جس خدا انہیں ندادے گا اور کہے گا کہ کہاں ہیں وہ جنہیں تم میراشریک سمجھتے تھے ۔
۶۳۔ اوروہ لوگ جن کے لے فرمان عذاب ثابت ہوچکاہوگا ، کہیں گے .” اے ہمارے رب یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے گمراہ کیاتھا . جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے اسی طرح ہم نے انہیں گمراہ کی.اب ہم ان سے بیزاری کااظہارکرتے ہیں . یہ درحقیقت ہماری نہیں (بلکہ اپنی ہوائے نفس کی ) پرستش کرتے تھے ۔
۶۴ ۔ اوران سے کہاجائے گا کہ انھیں بلاؤ جنہیں خدا کا شریک دقرار دیتے تھے . تووہ انھیں پکاریں گے مگر وہ انہیں جواب نہ دیں گے اور جب عذاب کو (اپنی آنکھوں سے ) دیکھ لیں گے تو تمنا کریں گے کہ کا ش وہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔