سوره قصص / آیه 58 - 60
وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا ۖ فَتِلْكَ مَسَاكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِنْ بَعْدِهِمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِينَ ۵۸وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَىٰ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ ۵۹وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۶۰
اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ان کی معیشت کے غرور کی بنا پر ہلاک کردیا اب یہ ان کے مکانات ہیں جو ان کے بعد پھر آباد نہ ہوسکے مگر بہت کم اور درحقیقت ہم ہی ہر چیز کے وارث اور مالک ہیں. اور آپ کا پروردگار کسی بستی کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ اس کے مرکزمیں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کرے اور ہم کسی بستی کے تباہ کرنے والے نہیں ہیں مگر یہ کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں. اور جو کچھ بھی تمہیں عطا کیا گیا ہے یہ چند روزہ لذت هدنیا اور زینت هدنیا ہے اور جو کچھ بھی خدا کی بارگاہ میں ہے وہ خیر اور باقی رہنے والا ہے کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ہو.
۵۷۔ وکم اھلکنا من قریة م بطرت معیشتھا فتلک مسکنھم لم تسکن من م بعد ھم الا قلیلا وکنا نحن الورثین
۵۹۔ وما کان ربک مھلک القری حتی یبعث فی امھا رسولا یتلو ا علیھم ایتنا وما کنا مھلکی القری الا واھلھاظلمیون
۶۰۔ وما اوتیتم من شیٴ فمتاع الحیوة الدنیا و زینتھا وما عنداللہ خیر وابقی افلا تعقلون
ترجمہ
۵۸۔ اور ہم نے بہت سی ایسی بستیوں کوہلاک کردیاکہ جو زیادہ نعمتوں پر مغرور ہوگئی تھیں . یہ ہیں ان کے گھر (کہ جو ویرا ن ہوچکے ہیں ) کہ جن میں ان کے بعدکم ہی کوئی رہاہے اور ہم ان کے وارث ہوئے ۔
۵۹۔ اور تیرا رب بستیوں کوہلاک نہیں کرتاجب تک ان کے مرکز میں کوئی پیغمبرنہ بھیجے کہ جوان کوہماری آیات پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہرگز ہلاک نہیں کرتے مگر یہ کہ ان کے باشندے ظالم ہوں ۔
۶۰۔ اورجو چیز تمہیں دی گئی ہے وہ متاع حیات دنیا اوراس کی زینت ہے اورجو کچھ خدا کے پاس ہے وہ بہتر اورباقی رہنے والاہے ! کیاتم عقل سے کام نہیں لیتے ۔