سوره قصص / آیه 56 - 57
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ۵۶وَقَالُوا إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا ۚ أَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَهُمْ حَرَمًا آمِنًا يُجْبَىٰ إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ رِزْقًا مِنْ لَدُنَّا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۵۷
پیغمبر بیشک آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے ہیں بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ ان لوگوں سے خوب باخبر ہے جو ہدایت پانے والے ہیں. اور یہ کفاّر کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ حق کی پیروی کریں گے تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے تو کیا ہم نے انہیں ایک محفوظ حرم پر قبضہ نہیں دیا ہے جس کی طرف ہر شے کے پھل ہماری دی ہوئی روزی کی بنا پر چلے آرہے ہیں لیکن ان کی اکثریت سمجھتی ہی نہیں ہے.
۵۶ ۔ انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء وھو اعلم بالمھتدین
۵۷۔ وقالو ا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرات کل شیٴ رزقا من لدنا ولکن اکثرھم لایعلمون
ترجمہ
۵۶۔ جسے تو (نہیں ) چاہتا ہدایت نہیں پاسکتابلکہ خداہی جسے چاہتاہے ہدایت کرتاہے . اور خداہدایت پانے والوں کو خوب جانتاہے ۔
۵۷۔اور انھوں نے کہاکہ اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت کو قبول کرلیں توہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے کہاہم نے انھیں ایسی جگہ نہیں دی جوحرم امن ہے اور (ہر شہر ودیار کے ) ثمرات اس کی طرف لائے جاتے ہیں کہ جو ہماری طرف سے رزق ہے .مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے ۔