Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره قصص / آیه 36 - 37

										
																									
								

Ayat No : 36-37

: القصص

فَلَمَّا جَاءَهُمْ مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُفْتَرًى وَمَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي آبَائِنَا الْأَوَّلِينَ ۳۶وَقَالَ مُوسَىٰ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَنْ جَاءَ بِالْهُدَىٰ مِنْ عِنْدِهِ وَمَنْ تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۖ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ۳۷

Translation

پھر جب موسٰی ان کے پاس ہماری کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو ان لوگوں نے کہہ دیا کہ یہ تو صرف ایک گڑھا ہوا جادو ہے اور ہم نے اپنے گزشتہ بزرگوں سے اس طرح کی کوئی بات نہیں سنی ہے. اور موسٰی نے کہا کہ میرا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور کس کے لئے آخرت کا گھر ہے یقینا ظالمین کے لئے فلاح نہیں ہے.

Tafseer

									۳۶۔ فلما جاء ھم موسی بایتنا بینت قالو اماھذ ا الا سحر مفتری وما سمعنا بھذ فی ابائنا الا ولین 
۳۷۔ وقال موسی ربی اعلم بمن جاء بالھدی من عندہ ومن تکون لہ عاقبة الدار انہ لا یفلح الظلمون


ترجمہ

۳۶۔جس وقت موسٰی ہمارے روشن معجزات لے کران کے پاس آیا تو انھوں نے کہا : یہ تو جادو کے علاوہ کچھ نہیں ہے ، جسے غلط طوپر خداسے منسوب کردیاگیا ہے اورہم نے اپنے گزشتہ بزرگوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنی ۔
۳۷۔ موسٰی نے کہا : میراخدا ان لوگوں کوجواس کی طرف سے ھدایت لائے ہیں اوران لوگوں کو، جن کے لیے آخر کار دنیا و آخر ت کاگھر ہے ، خوب جانتاہے .یقینا ظا لم فلاح نہیں پائیں گے ۔