سوره قصص / آیه 29 - 35
فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِهِ آنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ نَارًا قَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي آنَسْتُ نَارًا لَعَلِّي آتِيكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ۲۹فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَنْ يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ۳۰وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۖ إِنَّكَ مِنَ الْآمِنِينَ ۳۱اسْلُكْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ ۖ فَذَانِكَ بُرْهَانَانِ مِنْ رَبِّكَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ ۳۲قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ ۳۳وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي ۖ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ ۳۴قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَانًا فَلَا يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا ۚ بِآيَاتِنَا أَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَالِبُونَ ۳۵
پھر جب موسٰی مدّت کو پورا کرچکے اور اپنے اہل کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے ایک آگ نظر آئی انہوں نے اپنے اہل سے کہا کہ تم لوگ ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید اس میں سے کوئی خبر لے آؤں یا کوئی چنگاری ہی لے آؤں کہ تم لوگ اس سے تاپنے کا کام لے سکو. پھر جو اس آگ کے قریب آئے تو وادی کے داہنے رخ سے ایک مبارک مقام پر ایک درخت سے آوز آئی موسٰی میں عالمین کا پالنے والا خدا ہوں. اور تم اپنے عصا کو زمین پر ڈال دو اور جو موسٰی نے دیکھا تو وہ سانپ کی طرح لہرا رہا تھا یہ دیکھ کر موسٰی پیچھے ہٹ گئے اور پھر مڑ کر بھی نہ دیکھا تو پھر آواز آئی کہ موسٰی آگے بڑھو اور ڈرو نہیں کہ تم بالکل مامون و محفوظ ہو. ذرا اپنے ہاتھ کو گریبان میں داخل کرو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید اور چمکدار بن کر برآمد ہوگا اور خوف سے اپنے بازوؤں کو اپنی طرف سمیٹ لو - تمہارے لئے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف یہ دو دلیلیں ہیں کہ یہ لوگ سب فاسق اور بدکار ہیں. موسٰی نے کہا کہ پروردگار میں نے ان کے ایک آدمی کو مار ڈالا ہے تو مجھے خوف ہے کہ یہ مجھے قتل کردیں گے اور کار تبلیغ رک جائے گا. اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان کے مالک ہیں لہٰذا انہیں میرے ساتھ مددگار بنادے جو میری تصدیق کرسکیں کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ لوگ میری تکذیب نہ کردیں. ارشاد ہوا کہ ہم تمہارے بازؤں کو تمہارے بھائی سے مضبوط کردیں گے اور تمہارے لئے ایسا غلبہ قرار دیں گے کہ یہ لوگ تم تک پہنچ ہی نہ سکیں اور ہماری نشانیوں کے سہارے تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہیں گے.
۲۹۔ فلما قضی موسی الاجل وسارباھلہ انس من جانب الطور نا ر اقال لاھلہ امکتواانی انست نار العلی اتیکم منھا بخبر ا وجذوة من النار لعلکم تصطلون
۳۰۔ فلما اتھا نودی من شاطی الواد الا یمن فی البقیة المبرکة من الشجرة ان یموسی انی انااللہ رب العلمین
۳۱۔ وان الق عصاک فلما راھا تھتزکانھاجان ولی مدبرا ولم یعقب یموسی اقبل ولاتخف انک من الامین
۳۲۔اسلک یدک فی جبیبک تخرج بیضاء من غیر سوء واضمم الیک جناحک من الرھب فذنک نن من ربک الی فرعون وملائہ انھم کانو قو مافسقین
۳۳۔ قال رب انی قتلت منھم نفسا فاخاف ان یقتلون
۳۴۔ واخی ھرون ھوافصح منی لسانی فارسلہ معی رد ایصد قنی انی اخاف ان یکذبوون
قال سنشد عضدک باخیک ونجعل لکما سلطان فلا یصلون الیکما بایتنا انتم ومن اتبعکما الغلبون
ترجمہ
۲۹۔ جب موسٰی نے مددت پوری کردی اورپنے خدان کے ساتھ (مدین سے مصر کی طرف ) روانہ ہواتواس نے طور کی طرف سے آگ دیکھی . اس نے اپنے گھر والوں سے کہا . تم یہاں ٹھہروں ، میں نے آگ دیکھی ہے . شاید میں وہاں سے تمہارے لیے کچھ خبرلاؤں یا آگ کاکوئی انگارا لے آؤں تاکہ تم اس سے گرم ہوجاؤ ۔
۳۰۔ جب اس کے پاس پہنچا تو ناگہاں میدان کے داہنے کنارے سے اس بابر کت و بلندزمین میں ایک درخت میں سے آواز آئی ” اے موسٰی ! میں اللہ رب العالمین ہوں “ ۔
۳۱۔تواپنی لاٹھی کوڈال دے .(جب موسٰی (علیه السلام) نے عصاکوڈال دیاتو ) دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح تیزی سے حرکت کررہی ہے .موسٰی کوخوف ہوااور رخ موڑ کرچل پڑا اور خداکی طرف پھرمنہ پھیرکے بھی نہ دیکھا ( آواز آئی ) اے موسٰی واپس آ ور نہ ڈر تو امان میں ہے ۔
۳۲۔اپناہاتھ گریبان میں ڈال . تو جب تواسے نکالے گا ، وہ بغیر کسی عیب کے سفید اور چمکدار ہوگا . اپنے ہاتھوں کواپنے شینہ پرکھ تاکہ خوف تجھ سے دور ہو.اورخداکی طرف سے یہ دورشن دلیلیں فرعون اورا س کے ساتھیوں کے مقابلے کے لیے ہیں کیونکہ وہ سب فاسق ہیں ۔
۳۳۔ موسٰی نے عرض کیامیں نے ان میں سے ایک فرد کو قتل کیاہے .مجھے ڈرہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے ۔
۳۴۔ میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیاد ہ فصیح ہے تواسے میرے ساتھ بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے ۔
۳۵۔ (خدانے فرمایا ) ہم تیرے بازوؤں کو تیرے بھائی کے وسیلے سے مضبوط کریں گے اور تمہیں غلبہ اور برتری عنایت کرین گے اور ہماری نشانیوں کی طرکت سے وہ تم پرغالب نہ ہوسکیں گے .تم اور تمہاری پیرو ی کرنے والے غالب رہیں گے ۔