سوره قصص / آیه 23 - 25
وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِنْ دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ۲۳فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ۲۴فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۲۵
اور جب مدین کے چشمہ پروارد ہوئے تو لوگوں کی ایک جماعت کو دیکھا جو جانوروں کو پانی پلارہی تھی اور ان سے الگ دو عورتیں تھیں جو جانوروں کو روکے کھڑی تھیں .موسٰی نے پوچھا کہ تم لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ان دونوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے ہیں جب تک ساری قوم ہٹ نہ جائے اور ہمارے بابا ایک ضعیف العمر آدمی ہیں. موسٰی نے دونوں کے جانوروں کو پانی پلادیا اور پھر ایک سایہ میں آکر پناہ لے لی عرض کی پروردگار یقینا میں اس خیر کا محتاج ہوں جو تو میری طرف بھیج دے. اتنے میں دونوں میں سے ایک لڑکی کمال شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور اس نے کہا کہ میرے بابا آپ کو بلارہے ہیں کہ آپ کے پانی پلانے کی اجرت دے دیں پھر جو موسٰی ان کے پاس آئے اور اپنا قصّہ بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ڈرو نہیں اب تم ظالم قوم سے نجات پاگئے.
۲۳۔ ولما ورد ماء مدین وجد علیہ امة من النایسقون ووجد من دونھم امراتین قذودن قال ماخطبکما قالتا لانسقی حتّی یصدرالرعاد وابواناشیخ کبیر ا
۲۴۔فسقی لھما ثم تولی الی الظل فقال رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر
۲۵۔فجا ء احد ھما تمشی علی استحیاء قالت ان ابی ید عوک لیجز یک اجرما سقیت لنا فلما جا ء ہ وقص علیہ القصص قال لاتخف نجوت من القوم الظلمین
ترجمہ
۲۳ ۔ اور جب موسٰی مدین میں پانی ( کے کنویں ) کے پاس پہنچاتو دیکھاکہ لوگ اپنے چوپایوں کو پانی پلارہے ہیں اور ان کے ایک طرف دو عورتیں اپنی بکریوں کولیے کھڑی ہیں اور (کنویں کے نزدیک نہیں آتیں ) ان سے موسٰی (علیه السلام) نے پوچھا تمہیں کیامسئلہ در پیش ہے ؟ ان دونوں نے کہاکہ ہم انھیں اس وقت تک پانی نہیں پلاسکتیں جب تک تمام چرواہے یہاں سے نکل نہ جائیں اور ہمارا والد بہت ہی بوڑھاہے ۔
۲۴۔ پس موسٰی نے ان ( بکریوں ) کو پانی پلایا پھر وہ سائے کی جگہ جابیٹھا اور کہا : پروردگار ا ! تو مجھے جوبھی نعمت عطاکرے گا ، میں اس کا حا جت مند ہوں ۔
۲۵ ۔ ( ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ) ان میں سے ایک حیااو ر شرم کے ساتھ چلتی ہوئی موسٰی کے پاس آئی . اور کہا میرے والد تجھے بلاتے ہیں تاکہ تو نے جو ہماری بکریوں کو پانی پلایا تھا اس کی تجھے اجرت دے پس موسٰی اس کے (شعیب کے ) پاس آئے ،اس سے سارا ماجرا بیان کیاتو شعیب نے کہا کہ ڈر نہیں تو نے ظالموں سے نجات پالی ہے ۔