Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره قصص / آیه 14 - 17

										
																									
								

Ayat No : 14-17

: القصص

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۱۴وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِنْ شِيعَتِهِ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِ ۖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبِينٌ ۱۵قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۱۶قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِينَ ۱۷

Translation

اور جب موسٰی جوانی کی توانائیوں کو پہنچے اور تندرست ہوگئے تو ہم نے انہیں علم اور حکمت عطا کردی اور ہم اسی طرح نیک عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں. اور موسٰی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی تو موسٰی نے اسے ایک گھونسہ مار کر اس کی زندگی کا فیصلہ کردیا اور کہا کہ یہ یقینا شیطان کے عمل سے تھا اور یقینا شیطان دشمن اور کھنَا ہوا گمراہ کرنے والا ہے. موسٰی نے کہا کہ پروردگار میں نے اپنے نفس کے لئے مصیبت مول لے لی لہذا مجھ معاف کردے تو پروردگار نے معاف کردیا کہ وہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے. موسٰی نے کہا کہ پروردگار تونے میری مدد کی ہے لہذا میں کبھی مجرموں کا ساتھی نہیں بنوں گا.

Tafseer

									۱۴۔ ولما بلغ اشدہ واستوی اتینہ حکم و علما وکذالک نجزی المحسنین
۱۵۔ ودخل المدینة علی حین غفلة من اھلھا فوجد فیھا رجلین یقتتلن ھذا من شیعتہ وھذ ا من عدوہ فاستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذی من عدوہ فوکرہ موسٰی فقضی علیہ قال ھذا من عمل الشیطن انہ عدو مضل مبین 
۱۶۔ قال رب ظلمت نفسی فاغفرلی فغرلہ انہ ھو الغفور الرحیم 
۱۷۔ قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظھیر ا للمجرمین


ترجمہ

۱۴۔ اورجب وہ (موسٰی ) بھر پور جوان اورطاقتور ہوگیا تو ہم نے اسے حکمت اور دانش عطاکی اورہم نیکو کا روں کوایسی ہی جزادیا کرتے ہیں ۔
۱۵۔ اور وہ ایسے وقت جب اہل شہر غافل تھے شہر میں داخل ہوا تو ناگہاں اس نے دو آدمیوں کودیکھا جو باہم لڑ رہے تھے .ان میںسے ایک اس کے پیرو کاروں میںسے تھا اوردوسرااس کے دشمنوں میںسے تھا ان میں سے ایک نے جواس کاطرفدار تھا ،شمن کے مقابلے میں اس سے امداد طلب کی موسٰی نے اس کے سینے پر ایک مکّا مارا اوراس کاکام تمام کردیا ( اوروہ زمین پرگرا اور مرگیا ) موسٰی نے کہا کہ یہ ایک عمل شیطانی تھا بیشک وہ دشمن اورصریح بہکا نے والاہے ۔
۱۶۔ اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے اوپر ظلم کیاتو مجھے مخش دے .پس خدانے اسے بخش دیا کہ وہ بخشنے والااوررحم کرنے والاہے ۔
۱۷۔ اس نے عرض کی : اے پروردگار ! میں اس نعمت کے شکر انے میں، جوتونے مجھے عطاکی ہے ، میں کبھی مجرموں کی مدد نہ کروں گا ۔