سوره شعراء / آیه 136 - 140
قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ ۱۳۶إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ ۱۳۷وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ۱۳۸فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۱۳۹وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۱۴۰
ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے لئے سب برابر ہے چاہے تم ہمیں نصیحت کرو یا تمہارا شمارنصیحت کرنے والوں میں نہ ہو. یہ ڈرانا دھمکانا تو پرانے لوگوں کی عادت ہے. اور ہم پر عذاب ہونے والا نہیں ہے. پس قوم نے تکذیب کی اور ہم نے اسے ہلاک کردیا کہ اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے ا ور ان کی اکثریت بہرحا ل مومن نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار غالب بھی ہے اور مہربان بھی ہے.
۱۳۶ قَالُوا سَوَاءٌ عَلَیْنَا اٴَوَعَظْتَ اٴَمْ لَمْ تَکُنْ مِنْ الْوَاعِظِینَ ۔
۱۳۷۔ إِنْ ہَذَا إِلاَّ خُلُقُ الْاٴَوَّلِینَ ۔
۱۳۸۔ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِینَ ۔
۱۳۹۔ فَکَذَّبُوہُ فَاٴَھلَکْنَاھمْ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً وَمَا کَانَ اٴَکْثَرُھمْ مُؤْمِنِینَ ۔
۱۴۰۔ وَإِنَّ رَبَّکَ لَھوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ ۔
ترجمہ
۱۳۶(قوم عاد کے)ان افرادنے کہا ہمارے لیے یکساںہے کہ تم ہمیں نصیحت کرو نہ کرو (خواہ مخواہ خود کو تھکاؤ نہیں)۔
۱۳۷۔یہ وہی پہلے والے لوگوں کا طریقہ کار ہے ۔
۱۳۸۔ہمیں ہر گز عذاب نہیں ہوگا ۔
۱۳۹۔انھوں نے ہُود کو جھٹلایا،تو ہم نے بھی انھیں تباہ کر دیا ۔اور اس میں(صاحبان ِ علم کے لیے )آیت اور نشانی ہے لیکن ان میں سے اکژ مومن نہیں تھے ۔
۱۴۰۔اور تمھاراپرور دگار عزیزاور رحیم ہے ۔