۱۔ بنی اسرائیل کی گذرگاہ
فَأَتْبَعُوهُمْ مُشْرِقِينَ ۶۰فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ۶۱قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ ۶۲فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ ۶۳وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ ۶۴وَأَنْجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ ۶۵ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ ۶۶إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ۶۷وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ۶۸
پھر ان لوگوں نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کا صبح سویرے پیچھا کیا. پھر جب دونوں ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو اصحاب موسیٰ نے کہا کہ اب تو ہم گرفت میںآجائیں گے. موسیٰ نے کہا کہ ہرگز نہیں ہمارے ساتھ ہمارا پروردگار ہے وہ ہماری راہنمائی کرے گا. پھر ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا دریا میں مار دیں چنانچہ دریا شگافتہ ہوگیا اور ہر حصہّ ایک پہاڑ جیسا نظر آنے لگا. اور دوسرے فریق کو بھی ہم نے قریب کردیا. اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو نجات دے دی. پھر باقی لوگوں کو غرق کردیا. اس میں بھی ہماری ایک نشانی ہے اور بنی اسرائیل کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں تھی. اور تمہارا پروردگار صاحبِ عزّت بھی ہے اور مہربان بھی.
قرآن مجید میں بار ہا اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حکم سے بنی اسرائیل کو ”بحر“ عبور کر وایا(1) ۔
اور چند مقامات پر ”یم“ کا لفظ بھی آیا ہے(2) ۔
اب یہ سوال کہ یہاں پر ”بحر“ اور ”یم“ سے کیا مراد ہے آیا یہ نیل (Nile River)جیسے وسیع و عریض دریا کی طرف اشارہ ہے کہ سر زمین مصر کی تمام آبادی جس سے سیراب ہو تی تھی یا بحیرہ احمر یعنی بحر قلزم (Red Sea)کی طرف اشارہ ہے ۔
موجودہ تورات اور بعض مفسرین کے انداز گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بحیرہ احمر کی طرف اشارہ ہے لیکن ایسے قرائن موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نیل کا عظیم و وسیع دریا ہے کیونکہ لغت میں جیسا کہ راغب مفردات میں کہتے ہیں :”بحر “ در اصل بہت زیادہ اور وسیع پانی کو کہتے ہیں اور ”یم“ بھی اسی معنیٰ میں آتا ہے بنابرین ان دونوں کلمات کا دریائے نیل پر اطلاق بالکل صحیح ہے ۔
رہے وہ قرائن جو اس نظر ئے کی تائید کرتے ہیں تو وہ مندرجہ ذیل ہیں :
۱۔ فراعنہ مصر کا محل ِ سکونت جو مصر کے آباد شہروں کا مرکز تھا یقینا ایسے مرکزی مقام پر ہو گا جو دریائے نیل سے زیادہ دور نہیں ہوگا ۔ اگر موجودہ اہرام اور اس کے اطراف کو معیار قرار دیں تو بنی اسرائیل مجبور تھے کہ سر زمین مقدس تک پہنچنے کے لئے پہلے دریائے نیل کو عبور کریں کیونکہ یہ علاقہ دریائے نیل کے مغرب میں واقع ہے اور انھیں مقدس سر زمین تک پہنچنے کے لئے مشرق کی طرف جانا چاہیئے تھا ۔( غورکیجئے گا)
۲۔ دریائے نیل کے نزدیک آیاد علاقے بحیرہ احمر سے اس قدر دور ہیں کہ بنی اسرائیل اسے ایک شب یا نصف شب میں طے نہیں کر سکتے تھے ( جبکہ گزشتہ آیا ت سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بنی اسرائیل نے فراعنہ مصر کی سر زمین کو راتوں رات ترک کیا اور قاعدةً رات کے وقت ہی یہ کام انجام پانا چاہیئے تھااور فرعونی لشکر بھی صبح صبح طلوعِ آفتاب کے وقت پہنچ گیا )۔
۳۔ سر زمین مصر کو عبور کرنے اور سر زمین مقدس تک پہنچنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ بحیرہ احمر کو عبور کریں کیونکہ نہر سویز کی کھدائی سے پہلے وہاں پر خشکی کا ایک راستہ موجود تھا مگر یہ کہ اس مفروضہ کو تسلیم کرلیں کہ ہزار ہا سال قبل بحیرہٴ احمر (Red Sea)کا بحیرہ روم(Mediterranean)سے براہ راست اتصال تھا اور خشکی کا کوئی راستہ موجود نہین تھا لیکن اس طرح کا کوئی مفروضہ کسی بھی صورت میں ثابت نہیں ہے ۔
۴۔ قرآن نے عصائے موسیٰ کے پانی میں ڈالنے کی داستان میں ”یم“ کا لفظ استعمال کیا ہے ( سورہ طٰہٰ ۳۹) اور جیسا کہ ہم پہلے تبا چکے ہیں فرعون والی کی غرقابی کے موقع پر بی لفظ ”یم“ استعمال کیا گیا ہے اور پھر یہ کہ دونوں واقعات ایک ہی داستان بلکہ ایک ہی سورہ(طٰہٰ) میں ہیں اور دونوں مطلق طور پر منقول ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ دونوں کا معنی ایک ہے اور پھر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے انھیں سمندر میں نہیں ڈالا تھا بلکہ تاریخی شواہد اور قرائن کے مطابق انھیں دریائے نیل کی موجود کے سپرد کیا تھا لہٰذ امعلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں غرق ہو ئے تھے ( غور کیجئے گا )
1۔ سورہ یونس /۹۰۔ سورہ طٰہٰ/۷۷۔ سورہ ٴ شعراء /۶۳( یہی آیت) اورسورہ دخان /۲۴۔
2۔ سورہ طٰہٰ/۷۸۔ سورہ قصص/۴۰۔اور سورہ ذاریات/۴۰۔