Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره شعراء / آیه 43 - 51

										
																									
								

Ayat No : 43-51

: الشعراء

قَالَ لَهُمْ مُوسَىٰ أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ ۴۳فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ ۴۴فَأَلْقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ ۴۵فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ ۴۶قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۴۷رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ ۴۸قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ۴۹قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ ۵۰إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ ۵۱

Translation

موسیٰ نے ان لوگوں سے کہا کہ جو کچھ پھینکنا چاہتے ہو پھینکو. تو ان لوگوں نے اپنی رسیوں اور چھڑیوں کو پھینک دیا اور کہا کہ فرعون کی عزّت و جلال کی قسم ہم لوگ غالب آنے والے ہیں. پھر موسیٰ نے بھی اپنا عصا ڈال دیا تو لوگوں نے اچانک کیا دیکھا کہ وہ سب کے جادو کو نگلے جارہا ہے. یہ دیکھ کر جادوگر سجدہ میں گر پڑے. اور ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو رب العالمین پر ایمان لے آئے. جو موسیٰ اور ہارون دونوں کا رب ہے. فرعون نے کہا کہ تم لوگ میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے یہ تم سے بھی بڑا جادوگر ہے جس نے تم لوگوں کو جادو سکھایا ہے میں تم لوگوں کے ہاتھ پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا. ان لوگوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہم سب پلٹ کر اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ جائیں گے. ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہماری خطاؤں کو معاف کردے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں.

Tafseer

									۴۳۔ قَالَ لَھُمْ مُوسَی اٴَلْقُوا مَا اٴَنْتُمْ مُلْقُونَ۔
۴۴۔ فَاٴَلْقَوْا حِبَالَہُمْ وَعِصِیَّھُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ ۔
۴۵۔ فَاٴَلْقَی مُوسَی عَصَاہُ فَإِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاٴْفِکُون۔
۴۶۔ فَاٴُلْقِیَ السَّحَرَةُ سَاجِدِینَ۔
۴۷۔ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِینَ ۔
۴۸۔ رَبِّ مُوسَی وَھَارُونَ ۔
۴۹۔ قَالَ آمَنْتُمْ لَہُ قَبْلَ اٴَنْ آذَنَ لَکُمْ إِنَّہُ لَکَبِیرُکُمْ الَّذِی عَلَّمَکُمْ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ لَاٴُقَطِّعَنَّ اٴَیْدِیَکُمْ وَاٴَرْجُلَکُمْ مِنْ خِلاَفٍ وَلَاٴُصَلِّبَنَّکُمْ اٴَجمَعِینَ ۔
۵۰۔ قَالُوا لَا ضَیْرَلاََّا إِلَی رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ۔
۵۱۔ إِنَّا نَطْمَعُ اٴَنْ یَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَایَانَا اٴَنْ کُنَّا اٴَوَّلَ الْمُؤْمِنِینَ ۔

ترجمہ 

۴۳۔(وعدے کا دن آن پہنچا اور سب لوگ جمع ہو گئے )موسیٰ نے ( جا دو گروں کی طرف منہ کر کے ) کہا ؛ تم جو کچھ پھینکنا چاہتے ہو پھینکو۔
۴۴۔انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں اور کہا :فرعون کی عزت کی قسم ہم کامیاب ہیں ۔
۴۵۔پھر موسیٰ علیہ اسلام نے اپنا عصا پھینکا تو اس نے چانک ان کے جھوٹے کرشموں کو نگلنا شروع کر دیا۔
۴۶۔سب کے سب جادو گر فوراً سجدے میں گر پڑے۔
۴۷۔اور کہنے لگے ہم عالمین کے رب پر ایمان لے آئے ۔
۴۸۔جو موسیٰ علیہ اسلام اور ہارون علیہ اسلام کو پر ور دگار ہے ۔
۴۹۔(فرعون نے) کہا: میری اجازت کے بغیر ہی تم اس پر ایمان لے آئے ہو ؟یقینا وہ تمہارا بڑا اور استاد ہے جس نے تمہیں جادو کی تعلیم دی ہے لیکن بہت جلد جان لو گے کہ میں تمہارے ہاتھوں اور پاوٴ ں کو مختلف سمت میں کاٹ دو ں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا ۔
۵۰۔تو سب نے کہا : کوئی بڑی بات نہیں (تم جو کچھ کر سکتے ہو کرو)ہم تواپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے ۔
۵۱۔ہمیں امید ہے کہ ہمارا پر وردگار ہماری خطا وٴں کو معاف کر دے گا ، کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں ۔