Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول

										
																									
								

Ayat No : 7-10

: الفرقان

وَقَالُوا مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا ۷أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنْزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا ۚ وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا ۸انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا ۹تَبَارَكَ الَّذِي إِنْ شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِنْ ذَٰلِكَ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَيَجْعَلْ لَكَ قُصُورًا ۱۰

Translation

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چکر بھی لگاتا ہے اور اس کے پاس کوئی ملک کیوں نہیں نازل کیا جاتا جو اس کے ساتھ مل کر عذاب هالٰہی سے ڈرانے والا ثابت ہو. یا اس کی طرف کوئی خزانہ ہی گرادیا جاتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے کھاتا پیتا اور پھر یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو ایک جادو زدہ آدمی کا اتباع کررہے ہو. دیکھو ان لوگوں نے تمہارے لئے کیسی کیسی مثالیں بیان کی ہیں یہ تو بالکل گمراہ ہوگئے ہیں اور اب راستہ نہیں پاسکتے ہیں. بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر سامان فراہم کردے ایسی جنتیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں اور پھر تمہارے لئے بڑے بڑے محل بھی بنادے.

Tafseer

									حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں :۔

میں نے اپنے والد(حضرت امام علی نقی علیہ السلام )سے پوچھا کہ آیا یہود اور مشرکین جب آنحضرت کے ساتھ کٹ حجتی اور کج بحثی کرتے تھے توآپ بھی ان کے ساتھ استدلالی گفتگوفرماتے تھے یا نہیں ؟
تو انھوں نے فرمایا ضرور فرماتے تھے اور کئی بار ایسا بھی ہوا ہے چنانچہ اسی سلسلے کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ایک دن آپ خانہ خدا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ عبد اللہ بن ابی مخزومی آپ کے سامنے آکر کہنے لگا :
اے محمد!تم نے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے اور بہت خطر ناک باتیں کرتے ہوئے اس طرح سے تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم پر وردگار ِ عالم کے رسول ہو ۔ لیکن مناسب نہیں کہ مخلوقات کا خالق اور عالمین کا پر وردگار تم جیسے ایک عام آدمی کو رسول بنا کر بھیجے ۔ تم بھی ہماری طرح کھانا کھاتے اور ہماری مانند بازار مین چلتے پھرتے ہو۔ 
یہ سن کر اللہ کے رسول نے(بار گاہ ایزدی میں )عرض کی:۔
بار الہٰا ! تو سب باتوں کو سنتا ہے اور ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے اور تیرے بندے جو کچھ کہتے ہیں تو انھیں بھی جانتا ہے (تو خود ہی ان کے اعتراضات کا جواب عنایت فرما)تو اس موقع پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور ان کے اعتراضات کے جواب دئیے(1) ۔
 1۔تفسیر نور الثقلین جلد۴ ص۶۔