Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ ”کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ“کی تفسیر:

										
																									
								

Ayat No : 55

: النور

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ۵۵

Translation

اللرُ نے تم میں سے صاحبان هایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین میں اسی طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کردے گا کہ وہ سب صرف میری عبادت کریں گے اور کسی طرح کا شرک نہ کریں گے اور اس کے بعد بھی کوئی کافر ہوجائے تو درحقیقت وہی لوگ فاسق اور بدکردار ہیں.

Tafseer

									مسلمانوں سے پہلے جن لوگوں کو خلافت ملی وہ کون تھے، اس سلسلے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں، مثلاً:
بعض نے اسے حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت داوٴدعلیہ السلام اور حضرت سلیمانعلیہ السلام کی طر ف اشارہ سمجھا ہے کیونکہ قرآن سورہٴ بقرہ آیت ۳۰ میں حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:
<اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْصِ خَلِیْفَة
”میں زمین میں خلیفہ بنانا چاہتا ہوں“
سورہٴ ص کی آیت ۲۶ میں حضرت داوٴد علیہ السلام کے بارے میں ہے:
<یا داوٴد انّا جعلناک خلیفة فی الارض
”اے داوٴد! ہم نے تجھے زمین پر خلیفہ بنایا“۔
اسی طرح سورہٴ نمل کی آیت ۱۶ کے مطابق حضرت سلیمان علیہ السلام حکومتِ داوٴد کے وارث تھے لہٰذا وہ بھی خلیفہ ہوئے ۔
بعض دوسرے حضرات مثلاً مفسر عالیقدر علامہ طباطبائی نے ”الیمزان“ میں اس معنیٰ کو بعید قرار دیا ہے کیونکہ انھوں نے ”الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ“ کے الفاظ کو انبیاء کے شایانِ شان نہیں سمجھا کیونکہ اس طرح کے الفاظ قرآن میں انبیاء کے بارے میں استعمال نہیں ہوئے، لہٰذا علامہ طباطبائی اسے گزشتہ امتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جو ایمان وعمل کی حامل تھیں اور انھیں زمین پر حکمرانی حاصل ہوئی ۔
لیکن بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ آیت بنی اسرائیل کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے اقتدار کی تباہی کے بعد وہ حکمران ہوئے، جیسا کہ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۳۷ میں فرمایا گیا ہے:
<وَاٴَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاٴَرْضِ وَمَغَارِبَھَا الَّتِی بَارَکْنَا فِیھَا
”ہم نے (مومنین بنی اسرائیل کے) کمزور کردہ لوگوں کو اس زمین کے مشارق ومغارب کا وارث بنا دیا کہ جسے ہم نے پُربرکت بنایا ہے“۔
نیز انہی کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
<ونمکن لھم فی الارض
”ہم نے ارادہ کریا کہ اس مستضعف قوم کو زمین پر اقتدار دیں“۔
یہ ٹھیک ہے کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰعلیہ السلام کے زمانے میں غلط اور فاسق بلکہ بعض اوقات کافر لوگ بھی تھے لیکن حکومت بہرحال صالح مومنین کے ہاتھ میں تھی، (اس لحاظ سے اس تفسیر کے بارے میں بعض مفسرین نے جو اعتراض کیا ہے وہ دور ہوجاتا ہے) یہ تیسری تفسیر ہمیں مفہوم کے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے ۔