۴۔ ”کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہُ وَتَسْبِیحَہُ“ کی تفسیر
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ ۖ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ۴۱وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ ۴۲
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے لئے زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اور فضا کے صف بستہ طائر سب تسبیح کررہے ہیں اور سب اپنی اپنی نماز اور تسبیح سے باخبر ہیں اور اللہ بھی ان کے اعمال سے خوب باخبر ہے. اور اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف سب کی بازگشت ہے.
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”علم“ کی ضمیر ”کل“ کی طرف لوٹتی ہے، اس کے مطابق اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا۔
آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے اور پرندے ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح سے آگاہ ہیں ۔
لیکن بعض دیگر مفسرین کے مطابق ”علم“ کی ضمیر الله کی طرف لوٹتی ہے، یعنی خدا ان میں سے ہر ایک کی نماز اور تسبیح سے آگاہ ہے ۔
البتہ پہلی تفسیر آیت کے معنی سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے، ک۔گویا تسبیح کرنے والا ہر کوئی اپنی ”تسبیح“ اور اپنی ”نماز“ کی خصوصیات جانتا ہے ۔
اگر اس سے مراد شعور کے ساتھ تسبیح ہو تو اس کا مطلب تو واضح ہے لیکن اگر زبانِ حال کے ساتھ ہو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر ایک کا اپنا خاص نظام ہے کہ جو ایک خاص طریقے سے عظمتِ پروردگار کا ترجمان ہے اور ہر ایک اس کی قدرت وعظمت کا مظہر ہے ۔