Tafseer e Namoona

Topic

											

									  4۔ ”نسائھن“ سے کون مراد ہیں؟

										
																									
								

Ayat No : 30-31

: النور

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۳۰وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۳۱

Translation

اور پیغمبر علیھ السّلام آپ مومنین سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں کہ یہی زیادہ پاکیزہ بات ہے اور بیشک اللہ ان کے کاروبار سے خوب باخبر ہے. اور مومنات سے کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی عفت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں علاوہ اس کے جو ازخود ظاہر ہے اور اپنے دوپٹہ کو اپنے گریبان پر رکھیں اور اپنی زینت کو اپنے باپ دادا.شوہر. شوہر کے باپ دادا .اپنی اولاد ,اور اپنے شوہر کی اولاد اپنے بھائی اور بھائیوں کی اولاد اور بہنوں کی اولاد اور اپنی عورتوں اور اپنے غلام اور کنیزوں اور ایسے تابع افراد جن میں عورت کی طرف سے کوئی خواہش نہیں رہ گئی ہے اور وہ بچےّ جو عورتوں کے پردہ کی بات سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ہیں ان سب کے علاوہ کسی پر ظاہر نہ کریں اور خبردار اپنے پاؤں پٹک کر نہ چلیں کہ جس زینت کو چھپائے ہوئے ہیں اس کا اظہار ہوجائے اور صاحبانِ ایمان تم سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے رہو کہ شاید اسی طرح تمہیں فلاح اور نجات حاصل ہوجائے.

Tafseer

									جیسا کہ ہم نے آیت کی تفسیر میں پڑھا ہے کہ نواں گروہ جس کے سامنے عورت کو زینت ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان عورتوں کا ہے جنھیں ”نسائھن“ (ان کی عورتیں) کہا گیا ہے ۔
ا س سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں صرف مسلمان عورتوں کے سامنے اپنا پردہ اتار سکتی ہیں، لیکن غیر مسلم عورتوں کے سامنے انھیں اسلامی پردے میں جانا چاہیے، اس حکم فلسفہ جیسا کہ روایات میں آیا ہے یہ ہے کہ ممکن ہے وہ عورتیں واپس جاکر مسلمان عورتوں کے بارے میں جو کچھ انھوں نے دیکھا اس کی تعریف اپنے شوہروں کے سامنے کریں اور یہ بات مسلمان عورتوں کے حق میں درست نہیں ہے ۔
کتاب ”من لایحضرہ الفقیہ“ میں ایک روایت امام صادق علیہ السلام مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
لاینبغی للمراٴة اٴن تنکشف بین یدی الیھودیة والنصرانیة، فانّھن یصفن ذٰلک لازواجھن.
مناسب نہیں ہے کہ مسلمان عورت کسی یہودی عورت اور عیسائی عورت کے سامنے عریاں ہو کیونکہ جو کچھ وہ دیکھیں گی اپنے شوہروں سے بیان کریں گی(1)۔
1۔ تفسیر نورالثقلین، ج۳، ص۵۹۳، بحوالہٴ من لایحضرہ الفقیہ.