سوره مؤمنون / آیه 26 - 30
قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ ۲۶فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا فَإِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ ۙ فَاسْلُكْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ ۖ وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ۖ إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ ۲۷فَإِذَا اسْتَوَيْتَ أَنْتَ وَمَنْ مَعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۲۸وَقُلْ رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ ۲۹إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ وَإِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِينَ ۳۰
تو نوح نے دعا کی کہ پروردگار ان کی تکذیب کے مقابلہ میں میری مدد فرما. تو ہم نے ان کی طرف وحی کی کہ ہماری نگاہ کے سامنے اور ہمارے اشارہ کے مطابق کشتی بناؤ اور پھر جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابلنے لگے تو اسی کشتی میں ہر جوڑے میں سے دو دو کو لے لینا اور اپنے اہل کو لے کر روانہ ہوجانا علاوہ ان افراد کے جن کے بارے میں پہلے ہی ہمارا فیصلہ ہوچکا ہے اور مجھ سے ظلم کرنے والوں کے بارے میں گفتگو نہ کرنا کہ یہ سب غرق کردیئے جانے والے ہیں. اس کے بعد جب تم اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر اطمینان سے بیٹھ جانا تو کہنا کہ شکر ہے اس پروردگار کا جس نے ہم کو ظالم قوم سے نجات دلادی ہے. اور یہ کہنا کہ پروردگار ہم کو بابرکت منزل پر اتارنا کہ تو بہترین اتارنے والا ہے. اس امر میں ہماری بہت سی نشانیاں ہیں اور ہم تو بس امتحان لینے والے ہیں.
۲۶ قَالَ رَبِّ انصُرْنِی بِمَا کَذَّبُونْ
۲۷ فَاٴَوْحَیْنَا إِلَیْہِ اٴَنْ اصْنَعْ الْفُلْکَ بِاٴَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا فَإِذَا جَاءَ اٴَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ فَاسْلُکْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاٴَھْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْھُمْ وَلَاتُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِنَّھُمْ مُغْرَقُونَ
۲۸ فَإِذَا اسْتَوَیْتَ اٴَنْتَ وَمَنْ مَعَکَ عَلَی الْفُلْکِ فَقُلْ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ
۲۹ وَقُلْ رَبِّ اٴَنزِلْنِی مُنْزَلًا مُبَارَکًا وَاٴَنْتَ خَیْرُ الْمُنزِلِینَ
۳۰ إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَاتٍ وَإِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِینَ
ترجمہ
۲۶۔ (نوح نے کہا:) پالنے والے مجھے جھٹلانے والوں کے خلاف میری مدد فرما ۔
۲۷۔ ہم نے (نوح کو) وحی کی کہ ہماری نگرانی میں اور ہمارے فرمان کے کشتی بنا ۔ پس جب (ان کو غرق کرنے کے لئے لئے) ہمارا حکم آئے اور تنور سے پانی ابلنے لگے (جو طوفان آپہنچنے کی نشانی ہے) تو تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں بٹھالے اور اپنے گھر والوں کو بھی بٹھالے، سوائے ان کے جن کی ہلاکت کا پہلے ہی سے حکم جاری کردیا گیا ہے ۔ (یہ اشارہ حضرت نوحعلیہ السلام کی بیوی اور ان کے ناخلف بیٹے کی طرف ہے) اور ان ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا، کیونکہ انھیں تو ہلاک ہی ہونا ہے ۔
۲۸۔ اور جب تم اور تمھارے ساتھی کشتی میں ٹھیک سے بیٹھ جائیں تو کہنا تعریف کے لائق وہی ذات ہے جس نے ہمیں ظالموں سے نجات بخشی ۔
۲۹۔ اور کہنا: پالنے والے ہمیں بابرکت جگہ پر پار لگا، کہ تو بہترین پار لگانے والا ہے ۔
۳۰۔ (بیشک) اس (واقعے) عقل وفکر رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور یقیناً ہم سب کی آزمائش کریں گے ۔