Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره حج / آیه 15 - 17

										
																									
								

Ayat No : 15-17

: الحج

مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ ۱۵وَكَذَٰلِكَ أَنْزَلْنَاهُ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَأَنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يُرِيدُ ۱۶إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَىٰ وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ۱۷

Translation

جس شخص کا خیال یہ ہے کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا اسے چاہئے کہ ایک رسی کے ذریعہ آسمان کی طرف بڑھے اور پھر اس رسی کو کاٹ دے اور پھر دیکھے کہ اس کی ترکیب اس چیز کو دور کرسکتی ہے یا نہیں جس کے غصّہ میں وہ مبتلا تھا. اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو واضح نشانیوں کی شکل میں نازل کیا ہے اور اللہ جس کو چاہتاہے ہدایت دے دیتا ہے. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے یہودیت اختیار کی یا ستارہ پرست ہوگئے یا نصرانی اور آتش پرست ہوگئے یا مشرک ہوگئے ہیں خدا قیامت کے دن ان سب کے درمیان یقینی فیصلہ کردے گا کہ اللہ ہر شے کا نگراں اور گواہ ہے.

Tafseer

									۱۵ مَنْ کَانَ یَظُنُّ اٴَنْ لَنْ یَنصُرَہُ اللهُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَی السَّمَاءِ ثُمَّ لِیَقْطَعْ فَلْیَنظُرْ ھَلْ یُذْھِبَنَّ کَیْدُہُ مَا یَغِیظُ
۱۶ وَکَذٰلِکَ اٴَنزَلْنَاہُ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَاٴَنَّ اللهَ یَھْدِی مَنْ یُرِیدُ
۱۷ إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ھَادُوا وَالصَّابِئِینَ وَالنَّصَاریٰ وَالْمَجُوسَ وَالَّذِینَ اٴَشْرَکُوا إِنَّ اللهَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّ اللهَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیدٌ


ترجمہ

۱۵۔جس شخص کو گمان ہے کہ الله دُنیا وآخرت میں اپنے پیغمبر کی مدد نہیں کرے گا (وہ اسی وجہ سے پیچ وتاب کھا رہا ہے، پس ہوسکتا ہے کرلے) وہ اپنے گھر کی چھت سے رسی باندھ کر اس سے لٹک جائے اور خود کشی کرلے (اور موت کے گڑھے تک جاپہنچے) اور دیکھ لے کہ آیا یہ کام اس کے غیظ وغضب کو ٹھنڈا کرسکتا ہے؟
۱۶۔ اسی طرح ہم نے قر آن کو واضح آیتوں کی صورت میں اُتارا ہے اور الله جس چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے ۔
۱۷۔ صاحبانِ ایمان اور یہودیوں، صائبین، عیسائیوں، مجوسیوں اور مشرکوں کے درمیان الله روز قیامت فیصلہ چکادے گا، حق کو باطل سے جدا کرکے دکھائے گا، الله ہر چیز پر گواہ ہے (اور ہر چیز پرگواہ ہے) ۔