Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره حج / آیه 11 - 14

										
																									
								

Ayat No : 11-14

: الحج

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ۱۱يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا لَا يَنْفَعُهُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ ۱۲يَدْعُو لَمَنْ ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِنْ نَفْعِهِ ۚ لَبِئْسَ الْمَوْلَىٰ وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ ۱۳إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ ۱۴

Translation

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو خدا کی عبادت ایک ہی رخ پراور مشروط طریقہ سے کرتے ہیں کہ اگر ان تک خیر پہنچ گیا تو مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی مصیبت چھوگئی تو دین سے پلٹ جاتے ہیں یہ دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ میں ہیں اور یہی خسارہ کھلا ہوا خسارہ ہے. یہ اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچاسکتے ہیں اور نہ فائدہ اور یہی دراصل بہت دور تک پھیلی ہوئی گمراہی ہے. یہ ان کو پکارتے ہیں جن کا نقصان ان کے فائدے سے زیادہ قریب تر ہے وہ ان کے بدترین سرپرست اور بدترین ساتھی ہیں. بیشک اللہ ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی کہ اللہ جو چاہتا ہے انجام دیتا ہے.

Tafseer

									۱۱ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَعْبُدُ اللهَ عَلیٰ حَرْفٍ فَإِنْ اٴَصَابَہُ خَیْرٌ اطْمَاٴَنَّ بِہِ وَإِنْ اٴَصَابَتْہُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلیٰ وَجْھِہِ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَةَ ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِینُ
۱۲ یَدْعُوا مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَایَضُرُّہُ وَمَا لَایَنْفَعُہُ ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیدُ
۱۳ یَدْعُوا لَمَنْ ضَرُّہُ اٴَقْرَبُ مِنْ نَفْعِہِ لَبِئْسَ الْمَوْلَی وَلَبِئْسَ الْعَشِیرُ
۱۴ إِنَّ اللهَ یُدْخِلُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الْاٴَنْھَارُ إِنَّ اللهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیدُ


ترجمہ

۱۱۔ بعض لوگ صرف زبانی کلامی الله پرستش کرتے ہیں (ان کا دلی ایمان بہت ہی کمزور ہے) یہی وجہ ہے کہ جب دنیوی منفعت حاصل کرتے ہیں تو مطمئن ہوجاتے ہیں، مگر جونہی آزمائشی مُصیبت آتی ہے، روگردانی کرتے ہوئے کُفر کا رخ کرتے ہیں، اس طرح دُنیا وآخرت کھوبیٹھتے ہیں اور یہی کُھلا ہوا گھاٹا ہے ۔
۱۲۔ وہ خدا کو چھوڑ کر اس کو پکارتے ہیں، جو کسی قسم کا نفع یا نقصان پہنچانے کی اہلیت نہیں رکھتا اور یہی گہری گمراہی ہے ۔
۱۳۔ وہ اس کو پکارتے ہیں جس کی طرف سے نفع کی نسبت نقصان کا کہیں زیادہ اندیشہ ہے، کیسا ہی بُرا سرپرست اور کیسا بُرا ساتھی ہے ۔
۱۴۔ جو ایمان لائے اور انھوں نے اعمال صالح کئے الله کو ایسے باغات میں لے جائے گا، جن کے درختوں تلے نہریں بہتی ہیں اور (بیشک) الله جس کام کا ارادہ کرتا ہے اسے انجام دیتا ہے ۔