سوره حج / آیه 5 - 7
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ ۚ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ۖ وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّىٰ وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ۵ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَأَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۶وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ۷
اے لوگو اگر تمہیں دوبارہ اٹھائے جانے میں شبہ ہے تو یہ سمجھ لو کہ ہم نے ہی تمہیں پہلے خاک سے بنایا ہے پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جس میں سے کوئی مکمل ہوجاتا ہے اور کوئی ناقص ہی رہ جاتا ہے تاکہ ہم تمہارے اوپر اپنی قدرت کو واضح کردیں ہم جس چیز کو جب تک چاہتے ہیں رحم میں رکھتے ہیں اس کے بعد تم کو بچہ بناکر باہر لے آتے ہیں پھر زندہ رکھتے ہیں تاکہ جوانی کی عمر تک پہنچ جاؤ اور پھر تم میں سے بعض کو اٹھالیا جاتا ہے اور بعض کو پست ترین عمر تک باقی رکھا جاتا ہے تاکہ علم کے بعد پھر کچھ جاننے کے قابل نہ رہ جائے اور تم زمین کو مردہ دیکھتے ہو پھر جب ہم پانی برسادیتے ہیں تو وہ لہلہانے لگتی ہے اور ابھرنے لگتی ہے اور ہر طرح کی خوبصورت چیز اگانے لگتی ہے. یہ اس لئے ہے کہ وہ اللہ خدائے برحق ہے اور وہی مفِدوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے. اور قیامت یقینا آنے والی ہے اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے اور اللہ قبروں سے مفِدوں کو اٹھانے والا ہے.
۵ یَااٴَیُّھَا النَّاسُ إِنْ کُنْتُمْ فِی رَیْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَیِّنَ لَکُمْ وَنُقِرُّ فِی الْاٴَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَی اٴَجَلٍ مُسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا اٴَشُدَّکُمْ وَمِنْکُمْ مَنْ یُتَوَفَّی وَمِنْکُمْ مَنْ یُرَدُّ إِلَی اٴَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَایَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا وَتَرَی الْاٴَرْضَ ھَامِدَةً فَإِذَا اٴَنزَلْنَا عَلَیْھَا الْمَاءَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاٴَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَھِیجٍ
۶ ذٰلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ ھُوَ الْحَقُّ وَاٴَنَّہُ یُحْیِ الْمَوْتیٰ وَاٴَنَّہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ
۷ وَاٴَنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ لَارَیْبَ فِیھَا وَاٴَنَّ اللهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ
ترجمہ
۵۔ اے لوگو! تمھیں قیامت کے آنے میں کوئی شک ہے (تو اس نکتے پر ذرا غور کرلو کہ) ہم نے تمھیں مٹی سے، نطفے سے، پھر جمے ہوئے خُون سے، پھر مضغہ (گوشت کے لوتھڑے) جو کبھی تو کِسی شکل وصورت کا حامل ہوتا اور کبھی نہیں پیدا کیا ہے تاکہ تم جان لو، (کہ ہم ہر چیز پر قادر ہیں) پھر جنین کی صورت میں رحم مادر میں ایک مدت رکھا (اور کبھی کسی کو ساقط کردیا) اس کے بعد بچے کی صورت میں تمھیں پیدا کیا تاکہ پختگی اور بلوغت وکمال تک پہنچ سکو، اس دوران میں کئی ایک مرجاتے ہیں اور دوسرے اس قدر عمر پاتے ہیں کہ بڑھاپے کے انتہائی بُرے مرحلے تک جاپہنچتے ہیں اور اپنی تمام تر معلومات اور تجربہ کو کھوبیٹھتے ہیں اور (اور دوسری طرف) تو دیکھے گا کہ زمین خُشک اور مردہ ہوتی ہے، ہم اس پر بارش برساتے ہیں تو اس میں زندگی پیدا ہوجاتی ہے اور نوع بہ نوع ہری بھری لہلہاتی کھیتیاں اگاتی ہے ۔
۶۔ یہ اس لئے کہ تمھیں پتہ چل جائے کہ الله برحق ہے، مردوں کو زندہ کرتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے ۔
۷۔ اور یہ کہ قیامت بہرحال آئے گی، جس میں کِسی قسم کا کوئی شک نہیں اور قبروں میں جتنے لوگ ہوں گے الله ان کو زندہ کرے گا ۔