۱۔ حمدِ الٰہی سے سورہ کی ابتداء
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا ۜ ۱قَيِّمًا لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِنْ لَدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا ۲مَاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا ۳وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۴مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِآبَائِهِمْ ۚ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ۚ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ۵
ساری حمد اس خدا کے لئے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی ہے اور اس میں کسی طرح کی کجی نہیں رکھی ہے. اسے بالکل ٹھیک رکھا ہے تاکہ اس کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے اورجو مومنین نیک اعمال کرتے ہیں انہیں بشارت دے دوکہ ان کے لئے بہترین اجر ہے. وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں. اورپھر ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایئے جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو اپنا فرزند بنایا ہے. اس سلسلے میں نہ انہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو-یہ بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے کہ یہ جھوٹ کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں کرتے.
۱۔ حمدِ الٰہی سے سورہ کی ابتداء:
قرآن مجید کی پانچ سورتیں ”الحمد للّٰہ“سے شروع ہوتی ہیں ۔ ان پانچ سورتوں میں حمد الٰہی کے بعد زمین و آسمان کی خلقت (یا ملکیت)یا عالمین کی پرورش کا ذکر آیا ہے سوائے زیر بحث سورت کے ۔ یہاں حمدِ الٰہی کے بعد رسول اللہ پر قرآن نازل ہونے کا ذکر آیا ہے ۔
درحقیقت سورہٴ انعام ، سبا، فاطر اور فاتحہ میں ”کتابِ تکوین“کی بات کی گئی ہے لیکن سورہ کہف میں ”کتاب تکوین“کی بات کی گئی ہے لیکن سورہ کہف میں ”کتاب تدوین“ کا ذکر کیا گیا ہے اور ہم جانتے ہیںکہ کتابوں یعنی عالم خلقت اور قرآن میں سے ہر ایک دوسرے کی تکمیل کرتا ہے اور یہ بات اس امر کو واضح کرتی ہے کہ قرآن سارے عالم خلقت جتنا وزن رکھتا ہے اور یہ بھی جہانِ ہستی کی سی نعمت ہے اور اصولی طور پر عالمین کی پرورش و تربیت کا مسئلہ کہ جو”الحمد لله رب العالمین“کے جملے میں آیا ہے، اس عظیم آسمانی سے فائدہ اٹھائے بغیر ممکن نہیں ہے