چند قابل توجہ نکات
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ ۸۴وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ ۸۵وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ أَشْرَكُوا شُرَكَاءَهُمْ قَالُوا رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ شُرَكَاؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُو مِنْ دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَاذِبُونَ ۸۶وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ۸۷الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ ۸۸وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ۸۹
اور قیامت کے دن ہم ہر امّت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اس کے بعد کافروں کو کسی طرح کی اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان کا عذر ہی سناُ جائے گا. اور جب ظالمین عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر اس میں کوئی تخفیف نہ ہوگی اور نہ انہیں کسی قسم کی مہلت دی جائے گی. اور جب مشرکین اپنے شرکائ کو دیکھیں گے تو کہیں گے پروردگار یہی ہمارے شرکائ تھے جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے پھر وہ شرکائ اس بات کو ان ہی کی طرف پھینک دیں گے کہ تم لوگ بالکل جھوٹے ہو. اور پھر اس دن اللہ کی بارگاہ میں اطاعت کی پیشکش کریں گے اور جن باتوں کا افتراکیا کرتے تھے وہ سب غائب اور بے کار ہوجائیں گی. جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور راہ خدا میں رکاوٹ پیدا کی ہم نے ان کے عذاب میں مزید اضافہ کردیا کہ یہ لوگ فساد برپا کیا کرتے تھے. اور قیامت کے دن ہم ہر گروہ کے خلاف ان ہی میں کا ایک گواہ اٹھائیں گے اور پیغمبر آپ کو ان سب کا گواہ بناکر لے آئیں گے اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے اور یہ کتاب اطاعت گزاروں کے لئے ہدایت ,رحمت اور بشارت ہے.
چند قابل توجہ نکات:
1۔ "شرکاء اللہ" کی بجائے "شرکاءھم": "شرکاء اللہ" (اللہ کے شریک) کی بجائے "شرکاءھم" (بت پرستوں کے شریک) ـــــــــــــــ اس بناء پر ہے کہ وہ ہر گز پروردگار کے شریک نہ تھے بلکہ خیالی اور جھوٹے شریک تھے۔ کہ جو بت پرستوں نے اپنے لیے بنا رکھے تھے۔ اور کیا ہی بہتر ہے کہ انھیں انھی کی طرف نسبت دی جائے نہ کہ خدا کی طرف۔
علاوہ ازیں جیسا کہ ہم نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ بت پرست اپنے کچھ چوپائے اور زرعی پیداوار بتوں کے نام کر دیتے تھے اور اس طرح انھیں اپنا شریک بناتے تھے۔
2۔ بے جان بت بھی بیش ہونگے: زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ روز قیامت بت بھی ظاہر ہوں گے۔ فرعوں اور نمرود کی طرح کے انسانی بت ہی وہاں پیش نہیں ہونگے بلکہ بے جان بت بھی حاضر ہوں گے سورہ انبیاء کی آیہ 98 میں مشرکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔
انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم۔
تم اور اللہ کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہیں جہنم کا ایندھن ہیں۔
3- بت مشرکین کی تکزیب کریں گے: زیر بحث آیت میں ہے کہ اس دن مشرکین کہیں گے۔ ہم ان معبودوں کی پرستش کرتے تھے۔
ان کی یہ بات غلط نہیں کہ بت ان کی تکذیب کریں لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ تکذیب اس بناء پر ہو کہ جعلی معبود اس بات کی تکذیب کریں کہ وہ پرستش کے لائق ہیں یا شاید وہ اس بناء پر تکذیب کریں گے کہ ان کی عبادت کرنے والے یہ بھی کہیں گے کہ:
خدایا ! یہ معبود ہمیں وسوسہ ڈالنے میں شریک تھے۔
لہذا وہ جواب دیں گے:
تم جھوٹ بولتے ہو، ہم وسوسہ نہیں ڈال سکتے تھے۔
4- "فالقوا الیھم القول" کا مفہوم: اس کا معنی ہے " قول اس کی طرف القاء کرتے تھے" یہ نہیں کہا: "قالو الھم" (انھیں کہتے تھے) یہ شاید اس بناء پر ہو کہ بت خود سے بات کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور اگر بات کریں گے تو وہ پروردگار کی طرف سے القاء ہوگا یعنی خدا انھیں القاء قول کرے گا اور وہ اسے اپنی پوجا کرنے والوں کی طرف القاء
کریں گے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ بات اور یہ جواب سننے کے بعد "سب بارگاہ ِ الٰہی میں جھک جائیں گے" یہ نادان عبادت کرنے والے جب حق کا چہرہ دیکھ لیں گے تو ان کے غرور، نخوت اور اندھے تعصبات کا خاتمہ ہوجائے گا اور وہ اس کی بارگا میں سر جھکا دیں گے (والقوا الی اللہ یومئذ نِ ِ السلم) 1؎
اس موقع پر جبکہ ہر چیز آفتاب کی مانند روشن ہوگی "ان کا سارا جھوٹ رفو چکر ہو جائے گا" (وضل عنھم ما کانوا یفترون)۔
خدا کی طرف شریک کی جھوٹی نسبت بھی پادرہوا ہو جائے گی اور یہ خیال بھی محو ہو جائے گا کہ بت بارگاہ ِ الٰہی میں شفیع ہیں کیونکہ سب اچھی طرح دیکھ لیں گے کہ نہ صرف بت کچھ نہیں کر سکتے بلکہ خود بھی جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہاں تک ان گمراہ مشرکین کی حالت بیان کی گئی ہے کہ جو خود شرک و انحراف میں غوطہ زن تھے مگر دوسروں کو اس راہ کی طرف دعوت نہ دیتے تھے۔ اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جارہی ہے کہ جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں اور لوگوں کو راہ ِ خدا سے روکتے ہیں ان کے کفر کے عذاب پر ہم دوسروں کو گمراہ کرنے کے عذاب کا اضافہ کریں گے کیونکہ وہ فساد برپا کرتے ہیں (اَلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ زِدْنَاهُـمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُـوْا يُفْسِدُوْنَ)۔
وہ اپنی ذمہ داری کا بوجھ بھی اپنے کندھے پر اٹھاتے ہیں اور دوسروں کے شریک ِ جرم بھی ہوتے ہیں یہ لوگ زمین پر فساد اور برائی کا سبب بنتے ہیں۔ خلق ِ خدا کی گمراہی کا باعث ہوتے ہیں اور راہ حق پر چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔
ہم نے کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ اسلام کی اجتماعی منطق کے لحاظ سے جو شخص بھی کوئی اچھی یا بُری روایت قائم کرتا ہے۔
اس روایت پر عمل کرنے والوں کے عمل میں شریک ہے۔ ایک مشہور حدیث میں ہے:
جو شخص کسی اچھی سنت کی بنیاد رکھتا ہے اس پر عمل کرنے والوں کا اجر اسے ملے گا جب کہ عمل کرنے والوں کی جزا بھی کم نہ ہوگی۔ اسی طرح جو کوئی بُری سننت کی بنیاد رکھتا ہے، اس پر عمل کرنے والے سب لوگوں کے گناہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھے جاتے ہیں جبکہ عمل کرنے والوں کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1؎ المیزان کے محترم مؤلف اور بعض دیگر مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اظہار تسلیم یہاں صرف عبادت کرنے والوں کی طرف سے ہوگا نہ کہ بتوں کی طرف ہے۔ ان مفسرین نے آیت کے آخری جملے کو شہادت کے طور پر پیش کیا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گناہ میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔
بہر حال قرآن اور احادیث کے لرزا دینے والے یہ الفاظ اللہ اور مخلوق ِ خدا کے بارے میں رہبروں اور راہنماؤں کی ذمہ داری کی واضح کرتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قبل کی چند آیات میں ہر امت میں گواہ ہونے کا ذکر آیا تھا۔ اب پھر وہی گفتگو کچھ مزید وضاحت کے ساتھ آئی ہے ارشاد ہوتا ہے: اس وقت کا سوچو جب ہم ہر امت کے لیے اسی میں سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے (وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْـهِـمْ مِّنْ اَنْفُسِهِـمْ)
علم ِ خدا ہر چیز پر محیط ہے مگر پھر ہر امت کے لیے خود اسی میں سے گواہ کا ہونا اس بات پر مزید تاکید کرتا ہے کہ انسانوں کے اعمال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے یہ ایک تنبیہ بھی ہے۔
اس عام حکم میں اگرچہ مسلمان بھی شامل ہیں، رسول ِ اسلام بھی ، لیکن اس بات پر مزید تاکید کے طور پر با لخصوص فرمایا گیا ہے: اور تجھے ہم ان مسلمانوں پر شاید قرار دیں گے (وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰى هٰٓؤُلَآءِ)۔
جو کچھ کہا گیا ہے اس کی بناء پر "ھٰؤلاءِ" سے مراد وہ مسلمان ہیں کہ جو زمانہ پیغمبر میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ان کے اعمال پر ناظر و شاہد تھے لہذا فطرتاً رسول اللہ کے بعد امت میں کوئی ایسا شخص ہونا چاہیے کہ جو بعد والوں پر شاہد ہو اور شاید کسی ایسے شخص کو ہونا چاہیے جو خود ہر قسم کے گناہ اور خطا سے پاک ہوتا کہ وہ شہادت کا حق اچھی طرح سے ادا سکے۔ اسی بناء پر بعض شیعہ و سنی مفسرین نے آیت کو ہر زمانے میں حجت عادل اور شاہد عادل کے وجود پر دلیل قرار دیا ہے البتہ شیعہ کہ جو ہر زمانے میں امام ِ معصوم کے وجود پر اعتقاد رکھتے ہیں، ان کے لیے اس کی تفسیر واضح ہے لیکن اہل ِ سنت علماء کے لیے اس کی توجیہ آسان نہیں ہے۔
شاید اسی مشکل کی بناء پر فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں ایسے توجیہ میں الجھے ہیں کہ جو اشکال سے خالی نہیں ہے۔
وہ کہتے ہیں:
اس آیت سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوتا جب لوگوں پر گواہ نہ ہو اور گواہ کو
جائز الخطا نہیں ہونا چاہیے ورنہ اس کے لیے بھی ایک گواہ کی ضرورت ہوگی اور اس معاملے کا سلسلہ لا متناہی ہو جائے گا ہر زمانے میں ایسے افراد کو ہونا چاہیے کہ جن کی گفتار اور قول حجت ہو اس معاملے کا اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ ہم کہیں کہ اجماع ِ امت حجت ہے (یعنی ہر زمانے کے تمام لوگ باہم مل کر کبھی راہ ِ خطا اختیار نہیں کریں گے)۔1؎
جناب فخر الدین رازی اپنے عقائد کی قید سے تھوڑا سا باہر نکل آتے تو یقیناً ایسی تعصب آمیز گفتگو میں مبتلا نہ ہوتے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1؎ تفسیر کبیر جلد 20 ص 98
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیونکہ قرآن کہتا ہے:
ہر امت کے لیے خود اسی کی نوع میں سے ہم نے ایک گواہ بنایا ہے۔
قرآن یہ نہیں کہتا کہ اجماع ِ امت ہر فرد امت کے لیے حجت اور گواہ ہے۔
البتہ جیسا کہ ہم نے سورہ نساء کی آیت ۴۱ کے ذیل میں ۔۔۔۔۔ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ’’ھؤلاء‘‘ کی تفسیر میں دو اور احتمال بھی ذکر کیے گئے ہیں۔
پہلا یہ کہ ’’ھؤلاء‘‘ گزشتہ امتوں کے گواہوں یعنی انبیاء و اوصیاء کی طرف اشارہ ہے لہذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس امت پر گواہ ہیں اور گزشتہ انبیاء پر بھی۔
دوسرا یہ کہ شاہد اور گواہ سے مراد عملی گواہ ہے یعنی وہ شخص کہ جس کا وجود نمونہ، ماڈل اور حق و باطل کی پہچان کے لیے میزان ہے۔
مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۳ ص ۲۸۲ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں۔
شہیداور گواہ مقرر کرنا اس بات کی دلیل ہے انسان کے لیے پہلے سے ایک ایسا مکمل اور جامع پروگرام موجود ہے کہ جس سے سب پر حجت تمام ہو جاتی ہے تبھی تونگرانی کا صحیح مفہوم پیدا ہو سکتا ہے لہذا ساتھ ہی فرمایا گیا ہے اور ہم نے یہ آسمانی کتاب (قرآن مجید) تجھ پر نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا واضح بیان موجود ہے ( ونزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شئ)۔
یہ ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے بشارت بھی ہے (وھدی و رحمۃ وبشرٰی للمسلمین)۔