سوره نحل/ آیه 75 -77
ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَمَنْ رَزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُونَ ۚ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۷۵وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهْهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۷۶وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۷۷
اللہ نے خود اس غلام مملوک کی مثال بیان کی ہے جو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ہے اور اس آزاد انسان کی مثال بیان کی ہے جسے ہم نے بہترین رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے خفیہ اور علانیہ انفاق کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ساری تعریف صرف اللہ کے لئے ہی ہے مگر ان لوگوں کی اکثریت کچھ نہیں جانتی ہے. اور اللہ نے ایک اور مثال ان دو انسانوں کی بیان کی ہے جن میں سے ایک گونگا ہے اور اس کے بس میں کچھ نہیں ہے بلکہ وہ خود اپنے مولا کے سر پر ایک بوجھ ہے کہ جس طرف بھی بھیج دے کوئی خیر لے کر نہ آئے گا تو کیا وہ اس کے برابر ہوسکتا ہے جو عدل کا حکم دیتا ہے اور سیدھے راستہ پر گامزن ہے. آسمان و زمین کا سارا غیب اللہ ہی کے لئے ہے اور قیامت کا حکم تو صرف ایک پلک جھپکنے کے برابر یا اس سے بھی قریب تر ہے اور یقینا اللہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے.
۷۵۔ ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً عَبْدًا مَمْلُوکًا لاَیَقْدِرُ عَلَی شَیْءٍ وَمَنْ رَزَقْنَاہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَھُوَ یُنفِقُ مِنْہُ سِرًّا وَجَھرًا ہھلْ یَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلَّہِ بَلْ اٴَکْثَرُھُمْ لاَیَعْلَمُونَ ۔
۷۶۔وَضَرَبَ اللهُ مَثَلاً رَجُلَیْنِ اٴَحَدُھُمَا اٴَبْکَمُ لاَیَقْدِرُ عَلَی شَیْءٍ وَھُوَ کَلٌّ عَلَی مَوْلاَہُ اٴَیْنَمَا یُوَجِّہُّ لاَیَاٴْتِ بِخَیْرٍ ھَلْ یَسْتَوِی ھُوَ وَمَنْ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَھُوَ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ۔
۷۷۔ وَلِلَّہِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا اٴَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اٴَوْ ھُوَ اٴَقْرَبُ إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ۔
ترجمہ:
۷۵۔خدا کی مثال بیان کی ہے اس مملوک غلال کی جس کی قدرت میں کوئی چیز نہیں اور اس باایمان) انسان کی جسے اچھا رزق بخشا گیا ہے اور وہ چھپ کر اور آشکار اسے عطائے خدا میں خرچ کرتا ہے کیا یہ دونوں برابر ہیں ۔ حمد و شکر خدا کے لئے لیکن ان میں سے اکثرنہیں جانتے ۔
۷۶۔اور اللہ نے دو افراد کی ( ایک اور ) مثال بیان کی ہے کہ جن میں سے ایک مادرزاد گونگا ہے کہ جو کچھ نہیں کرسکتا اور اپنے ساتھی پر بوجھ ہے اسے جس کام کے لئے بھی بھیجا جائے اچھا عمل انجام نہیں دیتا کیا ایساشخص اس انسان کے برابر ہے جو عدل و انصاف سے فیصلہ کرتا ہے اور راہ ِ مستقیم پر قائم ہے ۔
۷۷۔آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ کے ہے (اور وہی سب کچھ جانتا ہے )اور قیامت کا معاملہ اس کے لئے بالکل پلک جھپکنے یا اس سے بھی معمولی کاک کی طرح ہے ( کیونکہ خد اہر چیز ہر قدرت رکھتا ہے ) ۔