۶۔ ”للناس“ یعنی انسانوں کے لئے
وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ۶۸ثُمَّ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۶۹
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو اشارہ دیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں اپنے گھر بنائے. اس کے بعد مختلف پھلوں سے غذا حاصل کرے اور نرمی کے ساتھ خدائی راستہ پر چلے جس کے بعد اس کے شکم سے مختلف قسم کے مشروب برآمد ہوں گے جس میں پورے عالم انسانیت کے لئے شفا کا سامان ہے اور اس میں بھی فکر کرنے والی قوم کے لئے ایک نشانی ہے.
۶۔ ”للناس“ یعنی انسانوں کے لئے : یہ بات جاذب ِ توجہ ہے کہ مکھیوں کا علم رکھنے والے کہتے ہیں کہ شہد کی مکھی کی بھوک ختم کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ دو یا تین پھلوں کو چوس لے جبکہ وہ ایک گھنٹے میں اوسطاً اٹھائی سوپھولوں پر بیٹھتی ہے اور کئی کلو میٹر سفر کرتی ہے اور اپنی مختصر سی عمر میں ڈھیر سا را شہد جمع کرلیتی ہے ۔
بہر حال اس کی یہ تگ و تازی اور کار کر دگی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ صرف اپنے لئے کام نہیں کرتی بلکہ جیسا کہ قرآن کہتا ہے ”للناس“ ( سب انسانوں کے ) کرتی ہے ۔