Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ دودھ ایک اہم غذا

										
																									
								

Ayat No : 65-67

: النحل

وَاللَّهُ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ ۶۵وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ ۶۶وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ۶۷

Translation

اور اللہ ہی نے آسمان سے پانی برسایا ہے اور اس کے ذریعہ زمین کو مردہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کیا ہے اس میں بھی بات سننے والی قوم کے لئے نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور تمہارے لئے حیوانات میں بھی عبرت کا سامان ہے کہ ہم ان کے شکم سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ نکالتے ہیں جو پینے والوں کے لئے انتہائی خوشگوار معلوم ہوتا ہے. اور پھر خرمہ اور انگور کے پھلوں سے وہ شیرہ نکالتے ہیں جس سے تم نشہ اور بہترین رزق سب کچھ تیار کرلیتے ہو اس میں بھی صاحبان هعقل کے لئے نشانیاں پائی جاتی ہیں.

Tafseer

									۲۔ دودھ ایک اہم غذا۔دودھ اہم حیاتی ن سے بھر پور ہے یہ اجزاء باہم مل کر ایک غذا بناتے ہیں ۔ 
دودھ کے اجزاء:۔ سوڈیم (Sidiam)پوٹا شیمPot))کیلشیم(Calcium)میگگنیشیم، کانسی ، تانبا، آئرن ، فاسفورس آیوڈ(lode)اور گندھک۔
اس کے علاوہ دودھ میں آکسیجن ، ازاٹ(Azote)اور کارناک ایسڈ کے اجزاے بھی موجود ہوتے ہیں ۔ دودھ میں شکر کافی مقدار میں لکٹوز (Lactose)کی شکل میں ہوتی ہے ۔
دودھ میں تحلیل شدہ وٹامن اے ، بی ، سی اور ڈی ہوتے ہیں ۔ دور حاضر میں ثابت ہو چکا ہے کہ اگ رجانور نے خوب چارہ چرلیا تو اس کے دودھ میں ہر طرح کے وٹامن موجود ہوتے ہیں سب کی تفصیل اس کتاب میں نہیں آسکتی نیز اس مسئلے پر بھی تقریباً اتفاق ہے کہ دودھ ایک مکمل غذا ہے ۔ 
شاید یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں رسول اللہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
لیس یجزی مکان الطعام والشراب الااللبن
دودھ کے سواکوئی چیز کھانے پینے کا مکمل نعم البدل نہیں ہے ۔
نیز روایات میں ہے :
دودھ عقل انسان کو بڑھاتا ہے ، ذہن انسانی کو شفا بخشتا ہے ، آنکھوں کی بینائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے ، نسیان کو ختم کرتا ہے ، دل کو تقویت دیتا ہے اور کمر کو مضبوط کرتا ہے ۔ 
ہم جانتے ہیں کہ یہ آثار دودھ میں موجودحیاتین سے قریبی ربط رکھتے ہیں۔1

 

۱۔ کتاب” اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر“ جلد ۶ میں موجود دودھ کی بحث سے استفادہ کیا گیا ہے ۔