Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کیوں کہتے تھے ؟

										
																									
								

Ayat No : 56-60

: النحل

وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ ۗ تَاللَّهِ لَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُونَ ۵۶وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ ۙ وَلَهُمْ مَا يَشْتَهُونَ ۵۷وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ۵۸يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ۵۹لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ۖ وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۶۰

Translation

اور یہ ہمارے دئے ہوئے رزق میں سے ان کا بھی حصہ ّقرار دیتے ہیں جنہیں جانتے بھی نہیں ہیں تو عنقریب تم سے تمہارے افترا کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا. اور یہ اللہ کے لئے لڑکیاں قرار دیتے ہیں جب کہ وہ پاک اور بے نیاز ہے اور یہ جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب ان ہی کے لئے ہے. اور جب خود ان میں سے کسی کو لڑکی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ خون کے گھونٹ پینے لگتا ہے. قوم سے منہ حُھپاتا ہے کہ بہت بفِی خبر سنائی گئی ہے اب اس کی ذلّت سمیت زندہ رکھے یا خاک میں ملادے یقینا یہ لوگ بہت بفِا فیصلہ کررہے ہیں. جن لوگوں کو آخرت پرایمان نہیں ہے ان کی مثال بدترین مثال ہے اور اللہ کے لئے بہترین مثال ہے کہ وہی صاحب هعزّت اور صاحب هحکمت ہے.

Tafseer

									۱۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کیوں کہتے تھے ؟قرآن کی متعدد آیات کے مطابق عرب کے مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں خیال کرتے تھے یا خدا کی طرف منسوب کیے بغیر انھیں عورتوں کی صنف میں سے سمجھتے تھے ۔ 
سورہ زخرف کی آیہ ۱۹ میں ہے :
وجعلوا الملائکة الذین ھم عباد الرحٰمن انا ثاً۔
فرشتے کہ جو رحمن کے بندے ہیں انھیں وہ عورتیں قرار دیتے تھے۔ 
سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۴۰ میں ہے :
افاصفا کم ربکم بالبنین واتخذمن الملائکة اناثاً
کیا تمہیں خدا نے بیٹے دئے ہیں اور خود فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا رکھی ہیں۔
ہو سکتاہے یہ خیال گزشتہ اقوام کی خرافات میں سے زمانہ جاہلیت کے عربوں تک پہنچا ہو یہ بھی ممکن ہے کہ فرشتے چونکہ نظروں سے پو شیدہ ہیں اور پردے مین رہنے کی صفت عورتوں میں پائی جاتی ہے اس لئے وہ انھیں موٴنث سمجھتے ہوں یہی وجہ ہے کہ بعض کے بقول عرب سورج کو موٴنث مجازی اور چاند کو مذکر مجازی کہتے تھے کیونکہ سورج کا قرص اپنے خیرہ کن نور میں چھپا ہوتا ہے اور اس کی طرف نگاہ کرنا آسان نہیں ہے جبکہ چاند کو ٹکیہ پوری طرح نمایاں ہے ۔ 
یہ بھی احتمال ہے کہ فرشتوں کے وجود کی لطافت اس توہم کا سبب بنی ہو کیونکہ عورت مرد کی نسبت زیادہ لطیف ہے ۔ 
بہر حال یہ ایک پرانا ، غلط اور فضول سا تصور ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس خیال باطل کی تلچھٹ ابھی تک بعض لوگوں کی فکر میں موجو د ہے یہاں تک کہ مختلف زبانوں کے ادب میں بھی یہ بات دکھائی دیتی ہے کہ کسی خوبصورت عورت کی تعریف کے لئے اسے فرشتہ کہتے ہیں اسی طرح فرشتوں کی تصویر بناتے ہیں تو اسے عورتوں کی شکل دیتے ہیں حالانکہ اصولی طور پر فرشتے مادی جسم ہی نہیں رکھتے کہ ان کے بارے میں مذکر و مونث کی بحث میں پڑا جائے ۔