سوره نحل/ آیه 56 - 60
وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ ۗ تَاللَّهِ لَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُونَ ۵۶وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ ۙ وَلَهُمْ مَا يَشْتَهُونَ ۵۷وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ ۵۸يَتَوَارَىٰ مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ أَيُمْسِكُهُ عَلَىٰ هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ۵۹لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ۖ وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۶۰
اور یہ ہمارے دئے ہوئے رزق میں سے ان کا بھی حصہ ّقرار دیتے ہیں جنہیں جانتے بھی نہیں ہیں تو عنقریب تم سے تمہارے افترا کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا. اور یہ اللہ کے لئے لڑکیاں قرار دیتے ہیں جب کہ وہ پاک اور بے نیاز ہے اور یہ جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب ان ہی کے لئے ہے. اور جب خود ان میں سے کسی کو لڑکی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ خون کے گھونٹ پینے لگتا ہے. قوم سے منہ حُھپاتا ہے کہ بہت بفِی خبر سنائی گئی ہے اب اس کی ذلّت سمیت زندہ رکھے یا خاک میں ملادے یقینا یہ لوگ بہت بفِا فیصلہ کررہے ہیں. جن لوگوں کو آخرت پرایمان نہیں ہے ان کی مثال بدترین مثال ہے اور اللہ کے لئے بہترین مثال ہے کہ وہی صاحب هعزّت اور صاحب هحکمت ہے.
۵۶۔ وَیَجْعَلُونَ لِمَا لاَیَعْلَمُونَ نَصِیبًا مِمَّا رَزَقْنَاھُمْ تَاللهِ لَتُسْاٴَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُونَ ۔
۵۷۔وَیَجْعَلُونَ لِلَّہِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَہُ وَلَھُمْ مَا یَشْتَہُونَ ۔
۵۸۔ وَإِذَا بُشِّرَ اٴَحَدُھُمْ بِالْاٴُنثَی ظَلَّ وَجْھُہُ مُسْوَدًّا وَھُوَ کَظِیمٌ۔
۵۹۔ یَتَوَارَی مِنْ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِہِ اٴَیُمْسِکُہُ عَلَی ھُونٍ اٴَمْ یَدُسُّہُ فِی التُّرَابِ اٴَلاَسَاءَ مَا یَحْکُمُونَ ۔
۶۰۔ لِلَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ وَلِلَّہِ الْمَثَلُ الْاٴَعْلَی وَہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ۔
ترجمہ
۵۶۔جو روزی ہم نے انھیں دی ہے وہ ا سکا ایک حصہ بتوں کے نام کردیتے ہیں جبکہ ان سے وہ کسی قسم کے سود و زیان کی خبر نہیں رکھتے ۔ خدا کی قسم ( قیامت کی عدالت میں) ان جھوٹی تہمتوں پر ان سے باز پرس ہو گی ۔
۵۷۔ وہ ( اپنے خیال میں ) اللہ کے لئے بیٹیوں کے قاتل تھے وہ ( اس سے ) منزہ ہے (کہ اس کی اولاد ہو ) لیکن اپنے لئے وہ کچھ چاہتے جو انھیں پسند ہوتا ہے ۔
۵۸۔ حالانکہ جب ان مین سے کسی کو بشارت دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی ہو ئی تو ( غم اور پریشانی کے مارے ) اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے ۔
۵۹۔ اس بری خبر پر اپنے قوم قبیلے سے منہ چھپائے پھرتاہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ذلت اٹھا کر اسے زندہ رہنے دے یا تہہ خال چھپا دے یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں ۔
۶۰۔ بری صفتیں انھیں ہی جچتی ہیں جو دار آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔ خدا کے لئے تو اعلیٰ صفات ہیں اور وہ عزیز و حکیم ہے ۔