سوره نحل/ آیه 24 - 29
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ۲۴لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ ۲۵قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ ۲۶ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنْتُمْ تُشَاقُّونَ فِيهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ إِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوءَ عَلَى الْكَافِرِينَ ۲۷الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ ۚ بَلَىٰ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۲۸فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ ۲۹
اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ سب پچھلے لوگوں کے افسانے ہیں. تاکہ یہ مکمل طور پر اپنا بھی بوجھ اٹھائیں اور اپنے ان مریدوں کا بھی بوجھ اٹھائیں جنہیں بلاعلم و فہم کے گمراہ کرتے رہے ہیں - بیشک یہ بڑا بدترین بوجھ اٹھانے والے ہیں. یقینا ان سے پہلے والوں نے بھی مکاریاں کی تھیں تو عذاب الٰہی ان کی تعمیرات تک آیا اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا اور ان کے سروں پر چھت گر پڑی اور عذاب ایسے انداز سے آیا کہ انہیں شعور بھی نہ پیدا ہوسکا. اس کے بعد وہ روزِ قیامت انہیں رسوا کرے گا اور پوچھے گا کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کے بارے میں تم جھگڑا کیا کرتے تھے - اس وقت صاحبان هعلم کہیں گے کہ آج رسوائی اور برائی ان کافروں کے لئے ثابت ہوگئی ہے. جنہیں ملائکہ اس عالم میں اٹھاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کے ظالم ہوتے ہیں تو اس وقت اطاعت کی پیشکش کرتے ہیں کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے تھے. بیشک خدا خوب جانتا ہے کہ تم کیا کیا کرتے تھے. جاؤ اب جہنمّ کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ اور ہمیشہ وہیں رہو کہ متکبرین کا ٹھکانا بہت برا ہوتا ہے.
۲۴۔ وَإِذَا قِیلَ لَھمْ مَاذَا اٴَنزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوا اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ ۔
۲۵۔ لِیَحْمِلُوا اٴَوْزَارَھُمْ کَامِلَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَمِنْ اٴَوْزَارِ الَّذِینَ یُضِلُّونَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ ۔
۲۶۔ قَدْ مَکَرَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاٴَتَی اللهُ بُنْیَانَہُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْھِمْ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِھِمْ وَاٴَتَاھُمْ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَیَشْعُرُونَ ۔
۲۷۔ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یُخْزِیھِمْ وَیَقُولُ اٴَیْنَ شُرَکَائِی الَّذِینَ کُنْتُمْ تُشَاقُّونَ فِیھِمْ قَالَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ إِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَالسُّوءَ عَلَی الْکَافِرِینَ۔
۲۸۔ الَّذِینَ تَتَوَفَّاھُمْ الْمَلاَئِکَةُ ظَالِمِی اٴَنفُسِھِمْ فَاٴَلْقَوْا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ بَلَی إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۔
۲۹۔ فَادْخُلُوا اٴَبْوَابَ جَھَنَّمَ خَالِدِینَ فِیھَا فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِینَ۔
ترجمہ
۲۴۔اور جس وقت ان سے کہا جائے کہ تمہارے پر ور دگار نے نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں یہ خدائی وحی نہیں ) یہ تو گذشتہ لوگوں کے جھوٹے افسانے ہیں ۔
۲۵۔روز قیامت ان کے گناہوں کا بوجھ انھیں پوری طرح اپنے کندھے پر اٹھا نا ہوگا اور ان لوگوں کے گناہوں کا ایک حصہ بھی جنہیں انھوں نے جہالت کی وجہ سے گمراہ کیا ہے ۔ جان لوکہ اپنے کندھے پر برا سنگین بوجھ اٹھاتے ہیں ۔
۲۶۔جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ ( بھی ) اس قسم کے سازشیں کرتے تھے لیکن خدا ان کی ( زندگی ) کی بنیاد کی طرف گیا اور اسے بنیاد سے اکھاڑ پھینکا اور او پر سے ان کے سروں پر چھت گرائی اور ( اللہ کا ) عذاب ان پر ادھر سے آیا جہاں سے وہ نہیں جانتے تھے ۔
۲۷۔ پھر قیامت کے دن خدا تمہیں رسوا کرے گا اور انھیں کہے گا کہ تم نے میرے شریک بنارکھے تھے کہ جن کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ دشمنی کرتے تھے وہ کہاں ہیں ۔ اس وقتر اہل علم کہیں گے کہ آج کے دن رسوائی اور بد بختی کا فروں کے لئے ہے ۔
۲۸۔ ( روح قبض کرنے والے ) فرشتے ان کی روح اس حالت میں قبض کریں گے کہ انھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہوگا ۔ اس وقت وہ سر جھکا لیں گے ۔ ( اور کہیں گے کہ) ہم برے کام نہیں کرتے تھے ۔ جی ہاں ! جوکچھ تم انجام دیتے تھے خدا اسے جانتا ہے ۔
۲۹۔ اب جہنم کے در وازوں میں سے داخل ہو جا وٴ وہ اس عالم میں ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ مستکبرین کے لئے کیسا برا ٹھکا نا ہے ۔