Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ مادی اور رروحانی نعمتیں

										
																									
								

Ayat No : 9-13

: النحل

وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ ۚ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ ۹هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۖ لَكُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ ۱۰يُنْبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ۱۱وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ۱۲وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ ۱۳

Translation

اور درمیانی راستہ کی ہدایت خدا کی اپنی ذمہ داری ہے اور بعض راستے کج بھی ہوتے ہیں اور وہ چاہتا تو تم سب کو زبردستی راہ راست پر لے آتا. وہ وہی خدا ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا ہے جس کا ایک حصّہ پینے والا ہے اور ایک حصّے سے درخت پیدا ہوتے ہیں جن سے تم جانوروں کو چراتے ہو. وہ تمہارے لئے زراعت,زیتون,خرمے,انگور اور تمام پھل اسی پانی سے پیدا کرتا ہے - اس امر میں بھی صاحبانِ فکر کے لئے اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور اسی نے تمہارے رات دن اور آفتاب و ماہتاب سب کو مسخر کردیا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم کے تابع ہیں بیشک اس میں بھی صاحبانِ عقل کے لئے قدرت کی بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں. اور جو کچھ تمہارے لئے اس زمین کے اندر مختلف رنگوں میں پیدا کیا ہے اس میں بھی عبرت حاصل کرنے والی قوم کے لئے اس کی نشانیاں پائی جاتی ہیں.

Tafseer

									۱۔ مادی اور رروحانی نعمتیں :یہ بات جاذب توجہ ہے کہ مندرجہ بالاآیات میں مادی و روحانی نعمتیں اس طرح آپس میں ملی جلی ہوئی ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اس کے باوجود آیات کے اس سلسلے میں مادی اور روحانی نعمتوں کے بارے میں لب و لہجہ میں ایک فرق ضرور ہے ۔
کسی موقع پر نہیں کہا گیا کہ خدا پر لازم ہے کہ تمہارے لئے فلاں روزی پیدا کرے لیکن راہ راست کی ہدایت کے بارے میں فرمایاگیاہے کہ خداپر لازم ہے کہ وہ تمہیں سیدھے راستے کی ہدایت کرے اور اس راستے کو طے کرنے کے لئے درکار قوت و توانائی بھی تمہیں عطا کرے ، تکوینی لحاظ سے بھی او ر تشریعی لحاظ سے بھی ۔اصولی طور پر قرآن کی یہ روش ہی نہیں کہ وہ کسی بحث کے کسی ایک پہلو پر ہی نظر رکھے ۔یہاں تک کہ درختوں اور پھلوں کی خلقت اور چاند سورج کی تسخیر ہونے کی بات کرتے ہوئے بھی معنوی اور روحانی ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے یہ مادی نعمتیں بھی خلقت و خالق کی عظمت کی نشانی ہیں ۔