سوره حجر / آیه 61 - 77
فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ ۶۱قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ ۶۲قَالُوا بَلْ جِئْنَاكَ بِمَا كَانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ ۶۳وَأَتَيْنَاكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ۶۴فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ أَحَدٌ وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ ۶۵وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَٰؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِينَ ۶۶وَجَاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ ۶۷قَالَ إِنَّ هَٰؤُلَاءِ ضَيْفِي فَلَا تَفْضَحُونِ ۶۸وَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ ۶۹قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ ۷۰قَالَ هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ ۷۱لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ ۷۲فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ ۷۳فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ ۷۴إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ ۷۵
پھر جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے. اور لوط نے کہا کہ تم تو اجنبی قسم کے لوگ معلوم ہوتے ہو. تو انہوں نے کہا ہم وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس میں آپ کی قوم شک کیا کرتی تھی. اب ہم وہ برحق عذاب لے کر آئے ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں. آپ رات گئے اپنے اہل کو لے کر نکل جائیں اور خود پیچھے پیچھے سب کی نگرانی کرتے چلیں اور کوئی پیچھے کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھے اور جدھر کا حکم دیا گیا ہے سب ادھر ہی چلے جائیں. اور ہم نے اس امر کا فیصلہ کرلیا ہے کہ صبح ہوتے ہوتے اس قوم کی جڑیں تک کاٹ دی جائیں گی. اور ادھر شہر والے نئے مہمانوں کو دیکھ کر خوشیاں مناتے ہوئے آگئے. لوط نے کہا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں خبردار ہمیں بدنام نہ کرنا. اور اللہ سے ڈرو اور رسوائی کا سامان نہ کرو. ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہم نے آپ کو سب کے آنے سے منع نہیں کردیا تھا. لوط نے کہا کہ یہ ہماری قوم کی لڑکیاں حاضر ہیں اگر تم ایسا ہی کرنا چاہتے ہو. آپ کی جان کی قسم یہ لوگ گمراہی کے نشہ میں اندھے ہورہے ہیں. نتیجہ یہ ہوا کہ صبح ہوتے ہی انہیں ایک چیخ نے اپنی گرفت میں لے لیا. پھر ہم نے انہیں تہ و بالا کردیا اور ان کے اوپر کھڑنجے اور پتھروں کی بارش کردی. ان باتوں میں صاحبان هہوش کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں.
۶۱۔ فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ ۔
۶۲۔ قَالَ إِنَّکُمْ قَوْمٌ مُنْکَرُونَ ۔
۶۳۔ قَالُوا بَلْ جِئْنَاکَ بِمَا کَانُوا فِیہِ یَمْتَرُونَ ۔
۶۴۔وَاٴَتَیْنَاکَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ۔
۶۵ فَاٴَسْرِ بِاٴَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِنْ اللَّیْلِ وَاتَّبِعْ اٴَدْبَارَھُمْ وَلاَیَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ وَامْضُوا حَیْثُ تُؤْمَرُونَ ۔
۶۶۔ وَقَضَیْنَا إِلَیْہِ ذَلِکَ الْاٴَمْرَ اٴَنَّ دَابِرَ ھَؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِینَ ۔
۶۷۔ وَجَاءَ اٴَھْلُ الْمَدِینَةِ یَسْتَبْشِرُونَ ۔
۶۸۔ قَالَ إِنَّ ھَؤُلَاءِ ضَیْفِی فَلاَتَفْضَحُونِی ۔
۶۹۔ وَاتَّقُوا اللهَ وَلاَتُخْزُونِی ۔
۷۰۔ قَالُوا اٴَوَلَمْ نَنْھَکَ عَنْ الْعَالَمِینَ ۔
۷۱۔ قَالَ ھَؤُلَاءِ بَنَاتِی إِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِینَ۔
۷۲۔ لَعَمْرُکَ إِنَّھُمْ لَفِی سَکْرَتِھِمْ یَعْمَھُونَ ۔
۷۳۔ فَاٴَخَذَتْھُمْ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِینَ۔
۷۴۔ فَجَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاٴَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّیل۔
۷۵۔ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِین۔
۷۶۔ وَإِنّھَا لَبِسَبِیلٍ مُقِیمٍ۔
۷۷۔ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً لِلْمُؤْمِنِینَ۔
ترجمہ
۶۱۔جس وقت (خدا کے) بھیجے ہوئے خاندان لوط کے پاس آئے ۔
۶۲۔(لوط نے) کہاتم انجانے افراد ہو ۔
۶۳۔انھوں نے کہا : ہم تیرے پاس وہی چیز لائے جس کے بارے میں وہ ( کافر) شک و تردد کرتے تھے ( ہم عذاب پر مامور ہیں ) ۔
۶۴۔ہم تیرے پاس حقیقت مسلمہ لائے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں ۔
۶۵۔لہٰذا رات کے آخرپہر اپنے گھر والوں کو ساتھ لے اور یہاں سے نکل پڑ۔تو ان کے پیچھے پیچھے چل تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اورجہاں کے لئے تمہیں کہا گیا ہے وہ وہاں چلے جاوٴ۔
۶۶۔اورہم نے لوط کو وحی کی کہ صبح کے وقت ان سب کی جڑ اکھاڑ پھینکی جائے گی ۔
۶۷۔(دوسری طرف)اہل شہر کو ان کے آنے کا پتہ چل گیا اور وہ لوط کے گھر کی طرف آئے جبکہ وہ ایک دوسرے کوخوشخبری دے رہے تھے ۔
۶۸۔(لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں میری آبرو نہ گنواوٴ۔
۶۹۔ خدا سے ڈو اور مجھے شرمندہ نہ کرو ۔
۷۰۔وہ کہنے لگے: کہ کیا ہم نے تجھے دنیا والوں ( کے ادھر آنے ) سے روکا نہ تھا ۔
۷۱۔اس نے کہا : اگر تم صحیح کا انجام دینا چاہتے ہو تو میری بیٹیاں حاضر ہیں ان سے شادی کرلو اور گناہ کی قباحت سے بچو ) ۔
۷۲۔ تیری جان کی قسم ! وہ اپنی مستی میں سر گرداں ہیں او ر اپنی عقل و شعور گنوا بیٹھے ہیں ۔
۷۳۔آخر کار طلوع آفتاب کے وقت (صاعقہ یا زمین کے زلزلے کی صورت میں ایک ہولناک چنگھاڑنے انھیں گھیرلیا ۔
۷۴۔اس کے بعد ( ان کے شہرر اور آبادی کو ہم نے زیر وزبر کردیا )وہ تہہ و با لا ہوگئے اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش فرمائی ۔
۷۵۔اس ( عبرت انگیز سر گذشت) میں سمجھداروں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
۷۶۔اور ( قافلوں کے ) راستوں میں ان کے ویرانے ہمیشہ کے لئے بر قرار ہیں ۔
۷۷۔ ان میں ایمانداروں کے واسطے نشانیاں ہیں ۔