سوره حجر / آیه 26 - 44
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ۲۶وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ ۲۷وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ۲۸فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ ۲۹فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ۳۰إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ أَنْ يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ۳۱قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ۳۲قَالَ لَمْ أَكُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ۳۳قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ۳۴وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ ۳۵قَالَ رَبِّ فَأَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۳۶قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ ۳۷إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ۳۸قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۳۹إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ۴۰
اور ہم نے انسان کو سیاہی مائل نرم مٹی سے پیدا کیا ہے جو سوکھ کر کھن کھن بولنے لگی تھی. اور جناّت کو اس سے پہلے زہریلی آگ سے پیدا کیا ہے. اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب تمہارے پروردگار نے ملائکہ سے کہا تھا کہ میں سیاہی مائل نرم کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں. پھر جب مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح حیات پھونک دوں تو سب کے سب سجدہ میں گر پڑنا. تو تمام ملائکہ نے اجتماعی طور پر سجدہ کرلیا تھا. علاوہ ابلیس کے کہ وہ سجدہ گزاروں کے ساتھ نہ ہوسکا. اللہ نے کہا کہ اے ابلیس تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تو سجدہ گزاروں میں شامل نہ ہوسکا. اس نے کہا کہ میں ایسے بشر کو سجدہ نہیں کرسکتا جسے تو نے سیاہی مائل خشک مٹی سے پیدا کیا ہے. ارشاد ہوا کہ تو یہاں سے نکل جا کہ تو مردود ہے. اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت ہے. اس نے کہا کہ پروردگار مجھے روز حشر تک کی مہلت دیدے. جواب ملا کہ تجھے مہلت دیدی گئی ہے. ایک معلوم اور معین وقت کے لئے. اس نے کہا کہ پروردگار جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں ان بندوں کے لئے زمین میں ساز و سامان آراستہ کروں گا اور سب کو اکٹھا گمراہ کروں گا. علاوہ تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص بنا لیا ہے.
۲۶۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ
۲۷۔ وَالْجَانَّ خَلَقْنَاہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ ۔
۲۸۔ وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّی خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ۔
۲۹۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ ۔
۳۰۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَةُ کُلُّھُمْ اٴَجْمَعُونَ ۔
۳۱۔ إِلاَّ إِبْلِیسَ اٴَبَی اٴَنْ یَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ۔
۳۲۔ قَالَ یَاإِبْلِیسُ مَا لَکَ اٴَلاَّ تَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ۔
۳۳۔ قَالَ لَمْ اٴَکُنْ لِاٴَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ۔
۳۴۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَإِنَّکَ رَجِیم۔
۳۵۔ وَإِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَةَ إِلَی یَوْمِ الدِّینِ۔
۳۶۔ قَالَ رَبِّ فَاٴَنْظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ۔
۳۷۔ قَالَ فَإِنَّکَ مِنْ الْمُنْظَرِینَ ۔
۳۸۔ إِلَی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ۔
۳۹۔ قَالَ رَبِّ بِمَا اٴَغْوَیْتَنِی لَاٴُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاٴَرْضِ وَلَاٴُغْوِیَنَّھُمْ اٴَجْمَعِینَ ۔
۴۰۔ إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمْ الْمُخْلَصِینَ۔
۴۱۔ قَالَ ھَذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیمٌ ۔
۴۲۔ إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنْ اتَّبَعَکَ مِنْ الْغَاوِینَ۔
۴۳۔ وَإِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُھُمْ اٴَجْمَعِینَ ۔
۴۴۔ لَھَا سَبْعَةُ اٴَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِنْھُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ۔
ترجمہ
۲۶۔ ہم نے انسان کو خشک شدہ مٹی سے پیدا کیا کہ جو بد بو دار(سیاہ رنگ) کیچڑ سے لی گئی تھی ۔
۲۷۔اور اس سے پہلے ہم جن گرم او ر جلادینے والی آگ سے خلق کیا تھا ۔
۲۸۔اور یاد کرو وہ وقت جب تیرے پر وردگار نے فرشتوں سے کہا : میں بشرکو خشک شدہ مٹی جو بد بودار کیچڑ سے لی گئی ہے ، سے خلق کروں گا ۔
۲۹۔جب ہم اس کام کو انجام دے چکےں اور میں اپنی ( ایک شائستہ اور عظیم ) روح پھونکیں تو سب کے سب اسے سجدہ کرنا ۔
۳۰۔ تمام فرشتوں سے بلا استثناء سجدہ کیا ۔
۳۱۔ سوائے ابلیس کے کہ جس نے سجدہ کرنے والوں میں سے ہونے سے انکار کردیا ۔
۳۲۔(اللہ نے ) فرمایا اے ابلیس !تو ساجدین کے ساتھ کیوں شامل نہیں ہوا ؟
۳۳۔اس نے کہا : میں ہر گز ایسے بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تونے بد بودار کیچڑ سے لی گئی خشک شدہ مٹی سے بنایا ہے ۔
۳۴۔فرمایا: ان ( فرشتوں ) کی صف سے نکل جا کہ تو ہماری درگاہ سے راندہ گیا ہے ۔
۳۵۔اور تجھ پر روز قیامت تک لعنت (اور رحمت حق سے دوری ) ہوگی ۔
۳۶۔اس نے کہا: پر وردگارا!مجھے روز قیامت تک مہلت دے ( اور زندہ رکھ ) ۔
۳۷۔فرمایا: تو مہلت حاصل کرنے والوں میں سے ہے ۔
۳۸۔(لیکن روز قیامت تک نہیں بلکہ ) معین دن اور وقت تک۔
۳۹۔ اس نے کہا : پروردگارا!چونکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے میں مادی نعمتوں کو زمین میں ان کی نگاہ میں مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کروں گا ۔
۴۰۔مگر تیرے مخلص بندے ۔
۴۱۔ (اللہ نے) فرمایا:یہ میری مستقیم اور سیدھی راہ ہے ( ہمیشہ کی سنت ہے ) ۔
۴۲۔(کہ) تو میرے بندوں پر تسلط حاصل نہیں کرسکے گا مگر وہ گمراہ جو تیری پیروی کریں گے ۔
۴۳۔اور جہنم ان سب کی وعدہ گاہ ہے ۔
۴۴۔اس کے سات دروازے ہیں اور ہر در وازے کے لئے ان میں سے ایک معین گروہ تقسیم شدہ ہے ۔