سوره حجر / آیه 6 - 8
وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ ۶لَوْ مَا تَأْتِينَا بِالْمَلَائِكَةِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ۷مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوا إِذًا مُنْظَرِينَ ۸
اور ان لوگوں نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا ہے تو دیوانہ ہے. اگر تو اپنے دعوٰی میں سچا ہے تو فرشتوں کو کیوں سامنے نہیں لاتاہے. حالانکہ ہم فرشتوں کو حق کے فیصلہ کے ساتھ ہی بھیجا کرتے ہیں اور اس کے بعد پھر کسی کو مہلت نہیں دی جاتی ہے.
۶۔ وَقَالُوا یَااٴَیُّھَا الَّذِی نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ إِنَّکَ لَمَجْنُونٌ ۔
۷۔ لَوْ مَا تَاٴْتِینَا بِالْمَلَائِکَةِ إِنْ کُنْتَ مِنْ الصَّادِقِینَ ۔
۸۔ مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِکَةَ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَمَا کَانُوا إِذًا مُنْظَرِینَ ۔
ترجمہ
۶۔اور انہوں نے کہا: اے وہ شخص کہ جس پر ذکر (قرآن)نازل ہواہے ، بےشک تو دیوانہ ہے ۔
۷۔ اگر سچ کہتا ہے تو ہمارے لئے فرشتے کیوںنہیں لے آتا ۔
۸۔( لیکن انھیں جان لینا چاہیئے کہ) ہم فرشتوں کو حق کے بغیر نازل نہیں کرتے اور جس وقت نازل ہوئے تو پھر انھیں مہلت نہیں دی جائے گی ( اور انکار کی صورت میں عذاب ِالٰہی میں نابود ہو جائیں گے ) ۔