حضرت ابراهیم (ع) کی هجرت
وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ ۴۶فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۴۷يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ۴۸وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ۴۹سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ ۵۰لِيَجْزِيَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ۵۱هَٰذَا بَلَاغٌ لِلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ۵۲
اور ان لوگوں نے اپنا سارا مکر صرف کردیا اور خدا کی نگاہ میں ان کا سارا مکر ہے اگرچہ ان کا مکر ایسا تھا کہ اس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں. تو خبردار تم یہ خیال بھی نہ کرنا کہ خدا اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا اللہ سب پر غالب اور بڑا انتقام لینے والا ہے. اس دن جب زمین دوسری زمین میں تبدیل ہوجائے گی اور آسمان بھی بدل دیئے جائیں گے اور سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے. اور تم اس دن مجرمین کو دیکھو گے کہ کس طرح زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں. ان کے لباس قطران کے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آگ ہر طرف سے ڈھانکے ہوئے ہوگی. تاکہ خدا ہر نفس کو اس کے کئے کا بدلہ دے دے کہ وہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے. بیشک یہ قرآن لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے تاکہ اسی کے ذریعہ انہیں ڈرایا جائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ خدا ہی خدائے واحد و یکتا ہے اور پھر صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کرلیں.
ہجرت
آخر کار نمرود کی ظالم حکومت کی مشیزی کو اس بات کا احساس ہوا کہ یہ جوان آہستہ آہستہ حکومت کے لئے خطرے کا مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے سوچا کہ اس کی زبان گویا ، فکر توانااور منطق رسا کہیں پسے ہوئے محروم عوام کی بیداری اور آگاہی کا باعث نہ بن جائے کہیں لوگ استعمار کی زنجیر توڑ کی ان کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوں لہذا حکومت نے فیصلہ کر لیا کہ بت پرستوں کے جاہلانہ تعصب کا سہارا لے کر ابراہیم کو راستے سے ہٹا دیا جائے ۔ انہیں ایک خاص انداز اور حالات پیدا کر کے لوگوں کے سامنے آگ کے دریا میں پھینکنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ سورہ انبیا میں اس واقعہ کی تفصیل آئیں گی ۔یہ آگ در حقیقت لوگوں کی جہالت اور حکمران نظام کے ظلم کے ایندھن سے جلائی گئی تھی ۔ حکومت اس طرح اپنے آپ کو ہمیشہ کے لئے آسودہ فکر کرنا چاہتی تھی ۔
لیکن جب آگ حکم خدا سے خاموش ہو گئی اور ابراہیم اس سے صحیح و سالم نکل آئے تو نمرود کے نظام حکومت میں لرزہ پیدا ہو گیا ۔ اب ابراہیم ایک اور حیثیت سے سامنے آئے ۔ وہ ایک عام تفرقہ پرواز انسان نہ تھے کہ جسے وہ قتل کرنا چاہتے تھے ۔ وہ تو ایک خدائی رہبر تھے وہ ایک ایسے بہادر ہیرو تھے جو تن تنہا خالی ہاتھ طاقتور ظالم حکمرانوں پر حملہ کر سکتے تھے ۔ لہذا عوام کا خون چوسنے والے نمرود اس کے درباریوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پوری قوت سے ابراہیم کا مقابلہ کریں گے اور جب تک انہیں ختم نہ کر لیں آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔
دوسری طرف ابراہیم یہاں اپنا کردار ادا کر چکے تھے ۔ آمادہ دل لوگ ان پر ایمان لا چکے تھے ۔ انہوں نے مناسب سمجھا کہ موٴمنین اور اپنے حامیوں کو ساتھ لے کر بابل سے نکل جائیں اور اپنی دعوت حق کو دور دور تک پھیلانے کے لئے شام ، فلسطین اور فرعون کی سر زمین مصر کی طرف روانہ ہوں ۔ آپ نے ان علاقوں میں حقیقت توحید کی تبلیغ کی اور بہت سے لوگ خدائے واحد پر ایمان لائے ۔