Tafseer e Namoona

Topic

											

									  بت پرستوں سے مقابلہ

										
																									
								

Ayat No : 46-52

: ابراهيم

وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ ۴۶فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۴۷يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ۴۸وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ۴۹سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ ۵۰لِيَجْزِيَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ۵۱هَٰذَا بَلَاغٌ لِلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ۵۲

Translation

اور ان لوگوں نے اپنا سارا مکر صرف کردیا اور خدا کی نگاہ میں ان کا سارا مکر ہے اگرچہ ان کا مکر ایسا تھا کہ اس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں. تو خبردار تم یہ خیال بھی نہ کرنا کہ خدا اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا اللہ سب پر غالب اور بڑا انتقام لینے والا ہے. اس دن جب زمین دوسری زمین میں تبدیل ہوجائے گی اور آسمان بھی بدل دیئے جائیں گے اور سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے. اور تم اس دن مجرمین کو دیکھو گے کہ کس طرح زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں. ان کے لباس قطران کے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آگ ہر طرف سے ڈھانکے ہوئے ہوگی. تاکہ خدا ہر نفس کو اس کے کئے کا بدلہ دے دے کہ وہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے. بیشک یہ قرآن لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے تاکہ اسی کے ذریعہ انہیں ڈرایا جائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ خدا ہی خدائے واحد و یکتا ہے اور پھر صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کرلیں.

Tafseer

									بت پرستوں سے مقابلہ 
بابل کے لوگ اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کے علاوہ سورج ، چاند اور ستارے جیسے آسمانی موجودات کی پرستش کرتے تھے ۔ حضرت ابراہیم نے عزم صمیم کر لیا کہ واضح منطق اور استدلال کے ذریعہ ان کے خوابیدہ وجدان کو پیدا کیا جائے اور ان کی پاک فطرت کے چہرے سے غلط تعلیمات کے تاریک پردے ہٹا دئے جائیں تا کہ نور فطرت چمک اٹھے اور وہ توحید پرستی کے راستے پر گامزن ہو سکیں ۔ 
انہوں نے مدتوں آسمان و زمین کی خلقت پر غور کیا تھا ، ان پر حکمران قدرت کا مطالعہ کیا تھا اور آسمان و زمین کے شگفت انگیز اور تعجب خیز نظام کے بارے میں فکر کی تھی ۔ نور یقین ان کے دل میں چمک رہا تھا ( انعام ۔ ۷۵) ۔