۳۔ اول و آخر ۔ توحید
وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ ۴۶فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۴۷يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ۴۸وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ۴۹سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ ۵۰لِيَجْزِيَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ۵۱هَٰذَا بَلَاغٌ لِلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ۵۲
اور ان لوگوں نے اپنا سارا مکر صرف کردیا اور خدا کی نگاہ میں ان کا سارا مکر ہے اگرچہ ان کا مکر ایسا تھا کہ اس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں. تو خبردار تم یہ خیال بھی نہ کرنا کہ خدا اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کرے گا اللہ سب پر غالب اور بڑا انتقام لینے والا ہے. اس دن جب زمین دوسری زمین میں تبدیل ہوجائے گی اور آسمان بھی بدل دیئے جائیں گے اور سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے. اور تم اس دن مجرمین کو دیکھو گے کہ کس طرح زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں. ان کے لباس قطران کے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آگ ہر طرف سے ڈھانکے ہوئے ہوگی. تاکہ خدا ہر نفس کو اس کے کئے کا بدلہ دے دے کہ وہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے. بیشک یہ قرآن لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے تاکہ اسی کے ذریعہ انہیں ڈرایا جائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ خدا ہی خدائے واحد و یکتا ہے اور پھر صاحبانِ عقل نصیحت حاصل کرلیں.
۳۔ اول و آخر ۔ توحید : زیر نظر آیات کا ایک پہلو توحید پر تاکید ہے ۔ یہاں آخری ذکر بھی توحید کا ہے اور اسی کی طرف اولوا الباب کو متوجہ کیا گیا ہے ۔
جی ہاں ۔ توحید اسلام کی عمیق بنیاد ہے ۔ عقیدہ توحید اسلام کا وہ شجرہے جس کی جڑیں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ۔ اسلامی تعلیم و تربیت کے سب راستے اسی پر اختتام پذیر ہوتے ہیں ۔ اسلام کی ابتداء بھی توحید ہے اور انتہاء بھی توحید ۔ اسلام کا تانا بانا توحید ہی سے بنا گیا ہے ۔ توحید کا تعلق فقط معبود اور اللہ کے عقیدہ ہی سے نہیں بلکہ اس کے ہر نظریے ، عقیدہ اور پروگرام کا ہدف بھی توحید ہی ہے ۔ ہر ایک کی بنیاد توحید پر ہے ۔
آج مسلمانوںکی عظیم ابتلا کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے توحید کو عملی طور پر اسلام سے حذف کر دیا ہے ۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عرب ممالک کہ جہاں اسلام پروان چڑھا ۔آج شرک آلود نعروں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ آج وہ نسل پرستی ، عرب تفاخر ، احیاء عربیت اور عظمت عرب کے بھنور میں گرفتار ہےں ۔اسی طرح دوسرے ممالک میں سے بھی ہر کسی نے اپنے لئے اسی قسم کا کوئی بت تراش لیا ہے ۔ انہوں نے اسلامی توحید کو اپنے سے باکل الگ کر دیا ہے کہ جس نے کسی وقت مشرق و مغرب کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا تھا ۔ اس طرح یہ سب ممالک اپنے آپ میں ڈوب کر خود اپنے آپ سے بے گانہ ہو گئے ہیں ۔ حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ان کی آپس میں جنگ خون کے پیاسے دشمنوں سے کہیں زیادہ ہے ۔
یہ بات کتنی شرمناک ہے کہ ہم سنیں کہ عرب ممالک کی باہیمی جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد اسرائیلی یہودیوں کے مقابلے میں مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ اس وقت جب کہ ان کا ایک مشترک خطرناک دشمن ہے تو ان کے انتشار کا یہ عالم ہے اگر ایسا دشمن نہ ہوتا تو ان کی کیا حالت ہوتی ۔
اس وقت جبکہ ہم تفسیر کا یہ حصہ لکھ رہے ہیں حکومت عراق نے بڑی بے رحمی سے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملہ کر دیا ہے اور بہانہ بھی اس کے پاس سرحد کا معمولی سا تنازعہ ہے جو یقینا مذاکرات سے حل ہو سکتا تھا ۔ یہ وہی حکومت عراق ہے کہ جس نے اسرائیلی سپاہیوں پر آج تک ایک بھی گولی نہیں چلائی ۔ آج اس نے اس سفا کی سے حملہ کیا ہے کہ جیسے دو قوموں کا آپس میں کوئی رشتہ ہی نہ ہو ۔ جیسے یہ نہ آپس میں ہمسایہ ہیں ، نہ ان میں تہذیب و ثقافت کا کوئی رشتہ ہے اور نہ گہرا دینی تعلق ہے ۔ ادھر ہم دیکھتے ہیں کہ مشترک دشمن یہودی خوش ہو کر کہتا ہے :
اس سے بہتر منصوبہ کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ عراق ایران پر حملہ کر دے اور دونوں میں شدید تباہ کن طولانی جنگ شروع ہو جائے اور ہمیں ایک مدت کے لئے آسودگی مل جائے ۔
یہ وہ مقام ہے کہ ایک موحد ، متعہد اور صاحب ایمان مسلمان پر لازم ہے کہ ان طاغوتو ں کا شر ختم کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ایسے شرک آلود ، نفاق ڈالنے والوں ، تباہیاں پھیلانے والوں اور دشمن کو خوش کرنے والوں کو قعر جہنم میں پہنچائے ۔
۱ - سورہ ابراہیم آیہ ۳۷ تا ۴۱