۴۔ ”برزو“ اور محیص“ کا مفہوم
وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ ۲۱وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ ۖ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۲۲وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۲۳
اور قیامت کے دن سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو کمزور لوگ مستکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو آپ کے پیروکار تھے تو کیا آپ عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ہمارے کچھ کام آسکتے ہیں تو وہ جواب دیں گے کہ اگر خدا ہمیں ہدایت دے دیتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے -اب تو ہمارے لئے سب ہی برابر ہے چاہے فریاد کریں یا صبر کریں کہ اب کوئی چھٹکارا ملنے والا نہیں ہے. اور شیطان تمام امور کا فیصلہ ہوجانے کے بعد کہے گا کہ اللہ نے تم سے بالکل برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی ایک وعدہ کیا تھا پھر میں نے اپنے وعدہ کی مخالفت کی اور میرا تمہارے اوپر کوئی زور بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اسے قبول کرلیا تو اب تم میری ملامت نہ کرو بلکہ اپنے نفس کی ملامت کرو کہ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو میں تو پہلے ہی سے اس بات سے بیزار ہوں کہ تم نے مجھے اس کا شریک بنا دیا اور بیشک ظالمین کے لئے بہت بڑا دردناک عذاب ہے. اور صاحبان ه ایمان و عمل صالح کو ان جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گے وہ ہمیشہ حکم خدا سے وہیں رہیں گے اور ان کی ملاقات کا تحفہ سلام ہوگا.
۴۔ ”برزو“اور محیص“ کا مفہوم :”برزوا“ در اصل ”بروز“کے مادہ سے ظاہر ہونے اور پردے سے باہر آنے کے معنی میں ہے ۔ نیز اس کا معنی میدانِ جنگ میں صف سے باہر نکل کر حریف کے مقابلے میں آکھڑے ہونا بھی ہے ۔ اصطلاح یہ لفظ مبارزہ کرنے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔
”محیص“ ”محص“ کے مادہ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے عیب یا تکلیف سے نجات پانا ۔
اس کے بعد جابروں ، گنہگاروں اور شیطان کے پیروکاروں کی روز قیامت روحانی اور نفسیاتی عذا اور سزا کا منظر پیش کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے :اور جب صالح اور غیر صالح بندوں کا حساب کتاب ختم ہو جائے گا او رہر ایک اپنے قطعی انجام کا پہنچ جائے گا تو شیطان اپنے پیرو کاروں سے کہے گا کہ خدا نے تم سے حق وعدہ کیا تھا اور میں نے بی تم سے وعدہ کیا تھا ( جیسا کہ تم خود جانتے ہو وہ فضول اور بے قیمت وعدہ تھا ) پھر میں نے اپنے وعدے کے خلاف کیا
( وَقَالَ الشَّیْطَانُ لَمَّا قُضِیَ الْاٴَمْرُ إِنَّ اللهَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُکُمْ فَاٴَخْلَفْتُکُمْ ) ۔
گویا اس طرح شیطان بھی دیگر راہِ ضلالت کے ہبرمستکبرین کا ہم آواز ہوتا ہے اور اپنے ان بد بخت پیرو کاروں پر ملامت و سر زنش کے تیر چلا تا ہے پھر مزید کہتا ہے : میں تم پر کوئی جبری طور پر مسلط نہ تھا ۔ بات صرف یہ تھی کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اپنی مرضی سے اسے قبول کیا (وَمَا کَانَ لِی عَلَیْکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلاَّ اٴَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِی) ۔”لہٰذا مجھے سر زنش نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو“ کہ تم نے میری شیطنت آمیز اور ظاہر الفساد دعوت کو کیوں قبول کیا (فَلاَتَلُومُونِی وَلُومُوا اٴَنْفُسَکُمْ ) ۔تم نے خود یہ کام کیا ہے لہٰذا لعنت تم پر ہو ۔
بہر حال ”پر وردگار کے قطعی حکم اور عذاب کے سامنے نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو“(مَا اٴَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ ) ۔میں اعلان کرتا ہوں کہ تمہاری طرف سے مجھے شریک قرار دینے اور میری اطاعت کو اطاعت ِ الٰہی کے ہم پلہ قرار دینے سے بیزار ہوں اور میں اس کا انکا رکرتا ہوں (إِنِّی کَفَرْتُ بِمَا اٴَشْرَکْتُمُونِی مِنْ قَبْل) ۔
اب میں سمجھا ہوں کہ ”اسی اطاعت میں شرک کرنے نے “ مجھے بھی بد بخت کیا ہے او رتمہیں بھی ، وہی بد بختی اور بے چار گی کہ جس کی تلافی کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے ، جان لوکہ ” ظالموں کے لئے یقینادردناک عذاب ہے “۔ ( إِنَّ الظَّالِمِینَ لَھُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔