۲۔ ” لو ھدانا اللہ لھدیناکم “کامفہوم
وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ ۲۱وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ ۖ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۲۲وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۲۳
اور قیامت کے دن سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو کمزور لوگ مستکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو آپ کے پیروکار تھے تو کیا آپ عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ہمارے کچھ کام آسکتے ہیں تو وہ جواب دیں گے کہ اگر خدا ہمیں ہدایت دے دیتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے -اب تو ہمارے لئے سب ہی برابر ہے چاہے فریاد کریں یا صبر کریں کہ اب کوئی چھٹکارا ملنے والا نہیں ہے. اور شیطان تمام امور کا فیصلہ ہوجانے کے بعد کہے گا کہ اللہ نے تم سے بالکل برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی ایک وعدہ کیا تھا پھر میں نے اپنے وعدہ کی مخالفت کی اور میرا تمہارے اوپر کوئی زور بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اسے قبول کرلیا تو اب تم میری ملامت نہ کرو بلکہ اپنے نفس کی ملامت کرو کہ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو میں تو پہلے ہی سے اس بات سے بیزار ہوں کہ تم نے مجھے اس کا شریک بنا دیا اور بیشک ظالمین کے لئے بہت بڑا دردناک عذاب ہے. اور صاحبان ه ایمان و عمل صالح کو ان جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گے وہ ہمیشہ حکم خدا سے وہیں رہیں گے اور ان کی ملاقات کا تحفہ سلام ہوگا.
۲۔ ” لو ھدانا اللہ لھدیناکم “کامفہوم : بہت سے مفسرین کا نظر یہ ہے کہ اس سے مراد اس جہان میں عذاب الہٰی سے نجات کے طریقے کی ہدایت ہے کیونکہ یہ با ت مستکبرین اپنے پیروکاروں کے جواب میں کہیں گے کہ جب پیرو ان سے عذاب کا کچھ حصہ قبول کرنے کا تقاضا کریں گے سوال و جواب کا تقاضا ہے کہ مراد عذاب سے رہائی کے طریقے کی ہدایت ہو۔
اتفاق سے یہی تعبیر (ھدایت ) نعمات ِ بہشت تک پہنچنے کے بارے میں بھی نظر آتی ہے ۔ اہل جنت کی زبانی ہے :
وقالوا الحمد للہ الذی ھدانا لھذا و ماکنا لنھتدی لولا ان ھدنا اللہ
وہ کہیں گے : شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں ان نعمتوں کی طرف ہدایت کی ہے اور اگر اس کی توقیق و ہدایت نہ ہوتی تو ہمیں ان کی راہ نہ ملتی ۔ (اعراف۔۴۳)
یہ احتمال بھی ہے کہ رہبران ضلالت سے جب ان کے پیرو کار تقاضا کریں گے تو اپنے تئیں گناہ سے بری کرنے کے لئے گمراہی کے تمام علمبرداروں کی طرح کہ جو اپنی خراب کاری دوسروں کے سر تھونپ دیتے ہیں ، وہ بڑی ڈھٹائی سے کہیں گے : ہم کیا کریں اگر خدا ہمیں سیدھے واستے کی ہدایت کرتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت کرتے یعنی ہم تو مجبور تھے اور ہمارا اپنا تو کوئی ارادہ ہی نہ تھا ۔
یہی شیطان کی منطق ہے کہ جس نے اپنے آپ کو بر ی قرار دینے کے لئے خدائے عادل کی طرف جبر کی نسبت دیتے ہوئے کہا:
فبما اغوینی لاقعدن لھم صراطک المستقیم
اب جب کہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے تو میں بھی تیرے سیدھے راستے میں بیٹھا ان کی تاک میں رہوں گا ( اور انہیں منحرف کروں گا)( اعراف۔ ۱۶) ۔
لیکن توجہ رہے کہ مستکبریں چاہیں نہ اوٴچاہیں صریح آیات ِ قرآن اور واضح روایات کی رو سے اپنے پیرو کاروں کے گناہ کی ذمہ داری کوبوجھ بہرحال انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا نا ہوگا کیونکہ وہ انحراف کی بانی اور گمراہی کے عامل تھے البتہ پیر وکاروں کی ذمہ داری اور عذاب و سزا میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی ۔