Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شیطان اور ا س کے پیرو کاروں کی صریح گفتگو

										
																									
								

Ayat No : 21-23

: ابراهيم

وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ ۲۱وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ ۖ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۲۲وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ ۲۳

Translation

اور قیامت کے دن سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو کمزور لوگ مستکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو آپ کے پیروکار تھے تو کیا آپ عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ہمارے کچھ کام آسکتے ہیں تو وہ جواب دیں گے کہ اگر خدا ہمیں ہدایت دے دیتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے -اب تو ہمارے لئے سب ہی برابر ہے چاہے فریاد کریں یا صبر کریں کہ اب کوئی چھٹکارا ملنے والا نہیں ہے. اور شیطان تمام امور کا فیصلہ ہوجانے کے بعد کہے گا کہ اللہ نے تم سے بالکل برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی ایک وعدہ کیا تھا پھر میں نے اپنے وعدہ کی مخالفت کی اور میرا تمہارے اوپر کوئی زور بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے اسے قبول کرلیا تو اب تم میری ملامت نہ کرو بلکہ اپنے نفس کی ملامت کرو کہ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو میں تو پہلے ہی سے اس بات سے بیزار ہوں کہ تم نے مجھے اس کا شریک بنا دیا اور بیشک ظالمین کے لئے بہت بڑا دردناک عذاب ہے. اور صاحبان ه ایمان و عمل صالح کو ان جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گے وہ ہمیشہ حکم خدا سے وہیں رہیں گے اور ان کی ملاقات کا تحفہ سلام ہوگا.

Tafseer

									شیطان اور ا س کے پیرو کاروں کی صریح گفتگو
گزشتہ چند آیات میں ہٹ دھرم اور بے ایمان منحرفین کے لئے دردناک عذاب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ زیر بحث آیات اسی مفہوم کاتسلسل ہیں ۔ 
پہلے ارشاد ہوتا ہے : روز قیامت تمام جابر ، ظالم اور کافر بار گاہ خدا وندی میں پیش ہوں گے چاہے وہ تابع ہوں یا متبوع او رپیروہوں یا پیشوا (وَبَرَزُوا لِلَّہِ جَمِیعًا) ۔۱
اس وقت ضعفاء یعنی نادان پیرو کار کہ جو اندھی تقلید کی وجہ سے اپنے آپ داویٴ ضلالت میں سر گرداںکر چکے تھے مستکبرین سے کہ جو ان کی گمراہی کے سامل تھے ، کہیں گے : ہم تمہارے پیرو تھے ۔ اب جب کہ ہم تمہاری رہبری کے باعث ان کے سب عذابوں اور بلاوٴں میں گرفتار ہوئے ہیں ، کیا ممکن ہے کہ تم بھی ان عذابوں کا کچھ حصہ قبول کر لو تاکہ ہمیں تخفیف مل جائے ( فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِینَ اسْتَکْبَرُوا إِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعًا فَھَلْ اٴَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ ) ۔
لیکن وہ کہیں گے : اس کیفر ِ کردار اور عذاب سے اگر خدا ہماری ہدایت نجات کی طرف کتاتوہم بھی تمہاری راہنمائی کرتے ( قَالُوا لَوْ ھَدَانَا اللهُ لَھَدَیْنَاکُمْ) ۔
لیکن افسوس کہ معاملہ اس سے آگے نکل چکا ہے ” چاہے ہم بے قرار ہوں اور جزع و فزع کریں چاہے صبر کریں ہمارے کوئی راہ ، نجات نہیں ہے “( سَوَاءٌ عَلَیْنَا اٴَجَزِعْنَا اٴَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِیصٍ ) ۔